خالد ابرار کی غزل

    کچھ تو بولو میاں ہوا کیا ہے

    کچھ تو بولو میاں ہوا کیا ہے اس قدر خامشی وجہ کیا ہے پھر رہے ہو گلی گلی در در یوں بھٹکنے سے فائدہ کیا ہے میں جو کہتا ہوں تم سنو تو سہی بحث و تکرار میں رکھا کیا ہے آج ڈوبے تو پھر نہ ابھریں گے موج ہستی کا آسرا کیا ہے قطرۂ بے کراں ہے گرچہ صنم پھر صنم گر بتا خدا کیا ہے دل ہمارے کبھی ...

    مزید پڑھیے

    بڑا بے چین سا رہتا ہوں اب تو

    بڑا بے چین سا رہتا ہوں اب تو میں کیا کیا سوچتا رہتا ہوں اب تو ہے خاموشی رہی فطرت مری پر مسلسل بولتا رہتا ہوں اب تو ہوا ہے آنکھ سے اوجھل اجالا اندھیرے سے گھرا رہتا ہوں اب تو میاں اندر ہی اندر مر چکا ہوں عبث پھنکارتا رہتا ہوں اب تو ہوا سے میں کبھی کرتا تھا باتیں اٹاری میں پڑا ...

    مزید پڑھیے

    دل مخلص کہے بن بات دل کی جان جاتا ہے

    دل مخلص کہے بن بات دل کی جان جاتا ہے سلیقے سے منائیں گر تو روٹھا مان جاتا ہے یہ خاموشی نہ جانے اور کتنے رنگ بدلے گی غلو کو دور سے ہی آدمی پہچان جاتا ہے بھلے کتنا ہی پیارا کیوں نہ ہو جاں سے جدا ہو کر ترابی جسم واپس بے سر و سامان جاتا ہے بڑی مشغول رہتی سوچ ہے بسمل مری اکثر ہوا لگتی ...

    مزید پڑھیے

    اس سراسیمگی میں بات کریں تو کیسے

    اس سراسیمگی میں بات کریں تو کیسے شہسواروں سے مساوات کریں تو کیسے خوف سے خشک ہوئے جاتے ہیں لب لعلیں لوگ اظہار خیالات کریں تو کیسے پھر رہے طائر مجنوں ہیں کو بہ کو در در عشق صادق کا وہ اثبات کریں تو کیسے بد نہیں گرچہ وہ بدنام مگر ہیں ہر سو ایسی صورت میں ملاقات کریں تو کیسے ہر ...

    مزید پڑھیے

    تعلق ترک کرنے سے محبت کم نہیں ہوتی

    تعلق ترک کرنے سے محبت کم نہیں ہوتی بھڑکتی ہے یہ آتش دن بہ دن مدھم نہیں ہوتی نبھانا آشنائی کر کے مشکل تو نہیں لیکن کسی سے بھی محبت ناگہاں یک دم نہیں ہوتی تمہاری سوچ پر ہیں منحصر رنگینیاں دل کی یہ محفل بے وفائی سے کبھی درہم نہیں ہوتی اتر جائے جو پورا امتحان و آزمائش میں وہ چشم دل ...

    مزید پڑھیے

    اپنوں سے کوئی بات چھپائی نہیں جاتی

    اپنوں سے کوئی بات چھپائی نہیں جاتی غیروں کو کبھی دل کی بتائی نہیں جاتی لگ جاتی ہے غلطی سے کبھی آگ ولیکن نا دیدہ و دانستہ بجھائی نہیں جاتی تعلیم سکھاتی نہیں عالم کو سلیقہ تہذیب تو جاہل کو سکھائی نہیں جاتی رخ گرچہ ہواؤں کا موافق بھی ہو پھر بھی طوفان میں قندیل جلائی نہیں ...

    مزید پڑھیے

    یہاں شور بچے مچاتے نہیں ہیں

    یہاں شور بچے مچاتے نہیں ہیں پرندے بھی اب گیت گاتے نہیں ہیں وفا کے فلک پر محبت کے تارے خدا جانے کیوں جھلملاتے نہیں ہیں دلاسا نہ دے یوں ہمیں شیخ سعدی دلوں میں سمندر سماتے نہیں ہیں وراثت میں واعظ لقب پانے والے محلے کی مسجد میں جاتے نہیں ہیں مصور نے تصویر فرصت بنا کر کہا وقت کو ...

    مزید پڑھیے

    دشمن جاں سے دوستی کر لی

    دشمن جاں سے دوستی کر لی یوں میاں ہم نے خود کشی کر لی ایک مدت سے تھے پریشاں کچھ جب نہ سوجھا تو شاعری کر لی کہتے کہتے وہ رک گیا لیکن بات بھولے سے ہی سہی کر لی موم کے تھے بنے کرچ خنجر آگ سینے کی دو گنی کر لی دھجیاں دل کی پھر رفو گر نے سی کے عاشق سے دشمنی کر لی سر پہ الزام دل میں درد ...

    مزید پڑھیے

    سنگ ہاتھوں میں صنم سینے میں ہے

    سنگ ہاتھوں میں صنم سینے میں ہے بت کدہ دل میں حرم سینے میں ہے ہائے ہائے اپنی نادانی نہ پوچھ لا زباں پر اور نعم سینے میں ہے پشت کی جانب جھکا جاتا ہے دل صاف دکھتا ہے کہ خم سینے میں ہے سوچتی آنکھوں کے رستے چارہ گر درد اترا دم بہ دم سینے میں ہے بر زباں دنیائے دو رنگ و رسد پر میاں ملک ...

    مزید پڑھیے