تعلق ترک کرنے سے محبت کم نہیں ہوتی

تعلق ترک کرنے سے محبت کم نہیں ہوتی
بھڑکتی ہے یہ آتش دن بہ دن مدھم نہیں ہوتی


نبھانا آشنائی کر کے مشکل تو نہیں لیکن
کسی سے بھی محبت ناگہاں یک دم نہیں ہوتی


تمہاری سوچ پر ہیں منحصر رنگینیاں دل کی
یہ محفل بے وفائی سے کبھی درہم نہیں ہوتی


اتر جائے جو پورا امتحان و آزمائش میں
وہ چشم دل کبھی پھر آنسوؤں سے نم نہیں ہوتی


زمانہ چاہے جتنے رنگ و رخ بدلے حقیقت میں
نڈرتا مرد میداں موم کی مریم نہیں ہوتی


عجب دستور ہے ابرار اس دنیائے بے پر کا
شکستہ رنگ پتوں پر فدا شبنم نہیں ہوتی