دل مخلص کہے بن بات دل کی جان جاتا ہے
دل مخلص کہے بن بات دل کی جان جاتا ہے
سلیقے سے منائیں گر تو روٹھا مان جاتا ہے
یہ خاموشی نہ جانے اور کتنے رنگ بدلے گی
غلو کو دور سے ہی آدمی پہچان جاتا ہے
بھلے کتنا ہی پیارا کیوں نہ ہو جاں سے جدا ہو کر
ترابی جسم واپس بے سر و سامان جاتا ہے
بڑی مشغول رہتی سوچ ہے بسمل مری اکثر
ہوا لگتی ہے تو زخموں کی جانب دھیان جاتا ہے
محبت ہم نے کی ہے تجھ سے جاناں آن پر آ کر
ترا یوں چھوڑ کر جانا خلاف شان جاتا ہے
بلا کر دیکھ لو تم بھی کبھی ابرارؔ فرصت میں
بڑی مشکل سے گھر آیا ہوا مہمان جاتا ہے