یہاں شور بچے مچاتے نہیں ہیں
یہاں شور بچے مچاتے نہیں ہیں
پرندے بھی اب گیت گاتے نہیں ہیں
وفا کے فلک پر محبت کے تارے
خدا جانے کیوں جھلملاتے نہیں ہیں
دلاسا نہ دے یوں ہمیں شیخ سعدی
دلوں میں سمندر سماتے نہیں ہیں
وراثت میں واعظ لقب پانے والے
محلے کی مسجد میں جاتے نہیں ہیں
مصور نے تصویر فرصت بنا کر
کہا وقت کو ہم بچاتے نہیں ہیں
خس و خار سے گھونسلہ شہہ کڑی پر
ابابیل کیوں اب بناتے نہیں ہیں
ہمیں تم سکھاؤ تمہیں ہم سکھائیں
سبھی کام تو ہم کو آتے نہیں ہیں
یہ دنیائے دو رنگ و روزہ کے منظر
کہ ابرارؔ اب دل لبھاتے نہیں ہیں