اپنوں سے کوئی بات چھپائی نہیں جاتی

اپنوں سے کوئی بات چھپائی نہیں جاتی
غیروں کو کبھی دل کی بتائی نہیں جاتی


لگ جاتی ہے غلطی سے کبھی آگ ولیکن
نا دیدہ و دانستہ بجھائی نہیں جاتی


تعلیم سکھاتی نہیں عالم کو سلیقہ
تہذیب تو جاہل کو سکھائی نہیں جاتی


رخ گرچہ ہواؤں کا موافق بھی ہو پھر بھی
طوفان میں قندیل جلائی نہیں جاتی


سیدھی سی ہے یہ بات میاں ایسے مسلسل
رونے سے مقدر کی برائی نہیں جاتی


اے صاحب تدبیر اشاروں سے تو ہرگز
دیوار کراہت کی گرائی نہیں جاتی


مظلوم کے بہتے ہوئے پرجوش لہو سے
تصویر محبت کی بنائی نہیں جاتی


ابرارؔ سمجھتے نہیں آسان ہے بالکل
مشکل میں پڑی جان چھڑائی نہیں جاتی