کچھ تو بولو میاں ہوا کیا ہے
کچھ تو بولو میاں ہوا کیا ہے
اس قدر خامشی وجہ کیا ہے
پھر رہے ہو گلی گلی در در
یوں بھٹکنے سے فائدہ کیا ہے
میں جو کہتا ہوں تم سنو تو سہی
بحث و تکرار میں رکھا کیا ہے
آج ڈوبے تو پھر نہ ابھریں گے
موج ہستی کا آسرا کیا ہے
قطرۂ بے کراں ہے گرچہ صنم
پھر صنم گر بتا خدا کیا ہے
دل ہمارے کبھی ملے ہی نہیں
ہم ملیں بھی تو فائدہ کیا ہے
رفتہ رفتہ بدل گیا ابرارؔ
تم بھی بدلو میاں برا کیا ہے