Khaleequzzaman Nusrat

خلیق الزماں نصرت

خلیق الزماں نصرت کی غزل

    پھول گرتے ہی یہ سب رنگ اتر جائے گا

    پھول گرتے ہی یہ سب رنگ اتر جائے گا دھول کی زد میں جو آیہ وہ بکھر جائے گا میں ہوں پردہ ترے گھر کا نہ ہٹا تو مجھ کو میں ہٹا تو ترا ہر راز بکھر جائے گا آگ اندر کی کہاں مردہ وہ ہونے دے گا بجھتے شعلوں کو ہوا دے کے گزر جائے گا اپنے ارمانوں کو شو کیس میں رکھتے کیوں ہو جو بھی آئے گا وہ ...

    مزید پڑھیے

    ارباب اقتدار سے میرا سوال ہے

    ارباب اقتدار سے میرا سوال ہے یہ دور ارتقا ہے کہ دور زوال ہے جب جب لگے ہے آگ ہمارے ہی گھر جلیں یہ بات اتفاق ہے یا گہری چال کیسی منافقوں کی ہے سازش نہ پوچھئے ٹوٹے نہ جو وہ ریشمی دھاگوں کا جال ہے ایسے میں خواب آنکھوں میں کوئی سجائے کیا وہ حبس ہے کہ چین سے سونا محال ہے ہم تو عذاب ...

    مزید پڑھیے

    میں تیرا کوئی نہیں پھر بھی پوچھ بیٹھا ہوں (ردیف .. غ)

    میں تیرا کوئی نہیں پھر بھی پوچھ بیٹھا ہوں یہ آنسوؤں کی چمک ہے کہ چشم تر میں چراغ ہر ایک شخص کو ملتا کہاں ہے روشن ہاتھ کہ رب جلاتا نہیں دست بے ہنر میں چراغ تو ہم بھی رات کے جنگل میں سو گئے ہوتے نہ بنتے پاؤں کے چھالے اگر سفر میں چراغ میں روشنی کے تعاقب میں کچھ نہ دیکھ سکا لگی وہ ...

    مزید پڑھیے

    سرخیاں پڑھ کے ان اخباروں کی ڈر لگتا ہے

    سرخیاں پڑھ کے ان اخباروں کی ڈر لگتا ہے سارا عالم کسی بارود کا گھر لگتا ہے بیٹھ جائیں گی یہ دیواریں کسی بھی لمحہ اپنے گھر میں بھی تو رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے اپنے ہمسائے کے حالات ہیں اپنے جیسے اپنے ہی گھر کی طرح ان کا بھی گھر لگتا ہے آج بھی ہاتھ کی ریکھا کو مقدر سمجھیں بلیاں کاٹ لیں ...

    مزید پڑھیے