Khaleequzzaman Nusrat

خلیق الزماں نصرت

خلیق الزماں نصرت کے تمام مواد

4 غزل (Ghazal)

    پھول گرتے ہی یہ سب رنگ اتر جائے گا

    پھول گرتے ہی یہ سب رنگ اتر جائے گا دھول کی زد میں جو آیہ وہ بکھر جائے گا میں ہوں پردہ ترے گھر کا نہ ہٹا تو مجھ کو میں ہٹا تو ترا ہر راز بکھر جائے گا آگ اندر کی کہاں مردہ وہ ہونے دے گا بجھتے شعلوں کو ہوا دے کے گزر جائے گا اپنے ارمانوں کو شو کیس میں رکھتے کیوں ہو جو بھی آئے گا وہ ...

    مزید پڑھیے

    ارباب اقتدار سے میرا سوال ہے

    ارباب اقتدار سے میرا سوال ہے یہ دور ارتقا ہے کہ دور زوال ہے جب جب لگے ہے آگ ہمارے ہی گھر جلیں یہ بات اتفاق ہے یا گہری چال کیسی منافقوں کی ہے سازش نہ پوچھئے ٹوٹے نہ جو وہ ریشمی دھاگوں کا جال ہے ایسے میں خواب آنکھوں میں کوئی سجائے کیا وہ حبس ہے کہ چین سے سونا محال ہے ہم تو عذاب ...

    مزید پڑھیے

    میں تیرا کوئی نہیں پھر بھی پوچھ بیٹھا ہوں (ردیف .. غ)

    میں تیرا کوئی نہیں پھر بھی پوچھ بیٹھا ہوں یہ آنسوؤں کی چمک ہے کہ چشم تر میں چراغ ہر ایک شخص کو ملتا کہاں ہے روشن ہاتھ کہ رب جلاتا نہیں دست بے ہنر میں چراغ تو ہم بھی رات کے جنگل میں سو گئے ہوتے نہ بنتے پاؤں کے چھالے اگر سفر میں چراغ میں روشنی کے تعاقب میں کچھ نہ دیکھ سکا لگی وہ ...

    مزید پڑھیے

    سرخیاں پڑھ کے ان اخباروں کی ڈر لگتا ہے

    سرخیاں پڑھ کے ان اخباروں کی ڈر لگتا ہے سارا عالم کسی بارود کا گھر لگتا ہے بیٹھ جائیں گی یہ دیواریں کسی بھی لمحہ اپنے گھر میں بھی تو رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے اپنے ہمسائے کے حالات ہیں اپنے جیسے اپنے ہی گھر کی طرح ان کا بھی گھر لگتا ہے آج بھی ہاتھ کی ریکھا کو مقدر سمجھیں بلیاں کاٹ لیں ...

    مزید پڑھیے

1 نظم (Nazm)

    ڈر

    بات ہماری غور سے سننا سن کر جگ سے کہہ دینا اس دھرتی سے امبر تک جھرنے جھیل سے ساگر تک میدانوں کے دامن سے اونچے پربت کے سر تک بھوت ہے کیا جنات ہے کیا ظالم کالی رات ہے کیا ہم ہیں آدم کی اولاد شیطاں کی اوقات ہے کیا بستی بستی جنگل ہے اور جنگل میں جنگل ہے خطروں سے گھبرانا کیا جیون خود اک ...

    مزید پڑھیے