پھول گرتے ہی یہ سب رنگ اتر جائے گا

پھول گرتے ہی یہ سب رنگ اتر جائے گا
دھول کی زد میں جو آیہ وہ بکھر جائے گا


میں ہوں پردہ ترے گھر کا نہ ہٹا تو مجھ کو
میں ہٹا تو ترا ہر راز بکھر جائے گا


آگ اندر کی کہاں مردہ وہ ہونے دے گا
بجھتے شعلوں کو ہوا دے کے گزر جائے گا


اپنے ارمانوں کو شو کیس میں رکھتے کیوں ہو
جو بھی آئے گا وہ دیکھے گا گزر جائے گا


لوگ اس بت کو خدا کہنے لگیں گے نصرتؔ
تو کہیں سائے کی خاطر جو ادھر جائے گا