میں تیرا کوئی نہیں پھر بھی پوچھ بیٹھا ہوں (ردیف .. غ)
میں تیرا کوئی نہیں پھر بھی پوچھ بیٹھا ہوں
یہ آنسوؤں کی چمک ہے کہ چشم تر میں چراغ
ہر ایک شخص کو ملتا کہاں ہے روشن ہاتھ
کہ رب جلاتا نہیں دست بے ہنر میں چراغ
تو ہم بھی رات کے جنگل میں سو گئے ہوتے
نہ بنتے پاؤں کے چھالے اگر سفر میں چراغ
میں روشنی کے تعاقب میں کچھ نہ دیکھ سکا
لگی وہ ٹھیس کہ دھندلا گئے نظر میں چراغ
جلا کے چھوڑ دیا کس نے بہتے دریا میں
نہ یہ بھی سوچا کہ آ سکتا ہے بھنور میں چراغ
تمہارا شہر مرے گاؤں سے ہے کتنا الگ
یہاں گلوں کی جگہ کھلتے ہیں شجر میں چراغ
دل و دماغ میں بھرنے لگا ہے رات کا ڈر
جلانا بھول گئے لوگ رہ گزر میں چراغ