Khaleequzzaman Nusrat

خلیق الزماں نصرت

خلیق الزماں نصرت کی نظم

    ڈر

    بات ہماری غور سے سننا سن کر جگ سے کہہ دینا اس دھرتی سے امبر تک جھرنے جھیل سے ساگر تک میدانوں کے دامن سے اونچے پربت کے سر تک بھوت ہے کیا جنات ہے کیا ظالم کالی رات ہے کیا ہم ہیں آدم کی اولاد شیطاں کی اوقات ہے کیا بستی بستی جنگل ہے اور جنگل میں جنگل ہے خطروں سے گھبرانا کیا جیون خود اک ...

    مزید پڑھیے