ارباب اقتدار سے میرا سوال ہے

ارباب اقتدار سے میرا سوال ہے
یہ دور ارتقا ہے کہ دور زوال ہے


جب جب لگے ہے آگ ہمارے ہی گھر جلیں
یہ بات اتفاق ہے یا گہری چال


کیسی منافقوں کی ہے سازش نہ پوچھئے
ٹوٹے نہ جو وہ ریشمی دھاگوں کا جال ہے


ایسے میں خواب آنکھوں میں کوئی سجائے کیا
وہ حبس ہے کہ چین سے سونا محال ہے


ہم تو عذاب تشنہ لبی سے ہیں نیم جاں
گزری ہے جانے کیا کہ سمندر نڈھال ہے


حالات و کیفیات کی تصویر کھینچنا
نصرتؔ نہیں ترا یہ سخن کا کمال ہے