واعظ بتان دیر سے نفرت نہ کیجیئے
واعظ بتان دیر سے نفرت نہ کیجیئے
کج بحثیٔ مجاز و حقیقت نہ کیجیے
اٹھیے نہ آپ بزم سے غصہ میں اس قدر
جاتا ہوں میں حضور قیامت نہ کیجیئے
یاد آ ہی جاتا ہے کبھی ناصح کا قول بھی
سب کیجیئے جہاں میں محبت نہ کیجیئے
بیداد اور اس پہ یہ تاکید الحذر
آ جائے دم لبوں پہ شکایت نہ کیجیئے
زندوں میں اب شمار نہیں حضرت عزیزؔ
کہتے تھے آپ سے کہ محبت نہ کیجیئے