Arzoo Lakhnavi

آرزو لکھنوی

ممتاز قبل از جدید شاعر،جگر مرادآبادی کے معاصر

One of the leading pre-modern poets at lucknow, contemporary of Jigar Moradabadi.

آرزو لکھنوی کی غزل

    میر محفل نہ ہوئے گرمئ محفل تو ہوئے

    میر محفل نہ ہوئے گرمئ محفل تو ہوئے شمع تاباں نہ سہی جلتا ہوا دل تو ہوئے نہ سہی خاک کے پتلوں میں صفات ملکی بارے اس بار وفا کے متحمل تو ہوئے حوصلے دل کے محبت میں جو پستے ہی رہے کر کے ہمت ترے غمزوں کے مقابل تو ہوئے پرشس غم زدگاں بہر تفنن ہی سہی خیر سے آپ بھی اس بزم میں شامل تو ...

    مزید پڑھیے

    کچھ دن کی رونق برسوں کا جینا

    کچھ دن کی رونق برسوں کا جینا ساری جوانی آدھا مہینہ دنیائے دل کی رسمیں نرالی بے موت مرنا بے آس جینا روکا تھا دم بھر لہراتا آنسو آ آ گیا ہے دانتوں پسینہ وہ ایسے ہی ہیں جا رے جوانی جو خود ہی بخشا وہ خود ہی چھینا جس کا تھا وعدہ وہ کل نہ آئی دن گنتے گزرا سارا مہینہ منہ پر صفائی اور ...

    مزید پڑھیے

    نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والے

    نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والے ہیں یہ سوتا ہوا انصاف جگانے والے حد سے ٹکراتی ہے جو شے وہ پلٹتی ہے ضرور خود بھی روئیں گے غریبوں کو رلانے والے چپ ہے پروانہ تو کیا شمع کو خود ہے اقرار آپ ہی جلتے ہیں اوروں کو جلانے والے آرزوؔ ذکر زبانوں پہ ہے عبرت کے لئے مٹنے والے ہیں نہ باقی ...

    مزید پڑھیے

    نظر اس چشم پہ ہے جام لیے بیٹھا ہوں

    نظر اس چشم پہ ہے جام لیے بیٹھا ہوں ہے نہ پینے کا یہ مطلب کہ پیے بیٹھا ہوں رخنہ اندازئ اندوہ سے غافل نہیں میں ہے جگر چاک تو کیا ہونٹ سیے بیٹھا ہوں کیا کروں دل کو جو لینے نہیں دیتا ہے قرار جو مقدر نے دیا ہے وہ لیے بیٹھا ہوں التفات اے نگہ ہوشربا اب کیوں ہے پاس جو کچھ تھا وہ پہلے سے ...

    مزید پڑھیے

    اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جا

    اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جا آنکھوں سے خوں بہائے جا ہونٹوں سے مسکرائے جا جانے سے پہلے بے وفا شب کو سحر بنائے جا دل کو بجھا کے کیا چلا شمع کو بھی بجھائے جا سانس کا تار ٹوٹ جائے ٹوٹے نہ تار آہ کا ایک ہی لے پہ گائے جا ایک ہی دھن بجائے جا حکم طلب کے منتظر شوق کی آبرو نہ ...

    مزید پڑھیے

    آج بے آپ ہو گئے ہم بھی

    آج بے آپ ہو گئے ہم بھی آپ کو پا کے کھو گئے ہم بھی دانے کم تھے دکھوں کی سمرن میں تھوڑے موتی پرو گئے ہم بھی دیر سے تھے وہ جس کے گھیرے میں اسی جھرمٹ میں کھو گئے ہم بھی جا کے ڈھونڈا کہاں کہاں نہ تمہیں جب نہ پایا تو کھو گئے ہم بھی نام جینے کا جاگنا رکھ کر آج بے نیند سو گئے ہم ...

    مزید پڑھیے

    کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہے

    کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہے چتون ہے کہ تلوار لئے سر پہ کھڑی ہے آنے کو ہے کوئی جو للک پھر سے ہوئی ہے ڈوبے ہوئے سورج کی کرن پھوٹ رہی ہے ہے پگھلی ہوئی آگ کہ جلتے ہوئے آنسو لوکا وہیں اٹھا ہے جہاں بوند پڑی ہے جب سکھ نہیں جینے میں تو اک روگ ہے جینا سانس آئی ہے جب چوٹ کلیجے میں ...

    مزید پڑھیے

    گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا

    گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا بہت گراں تھا یہ سودا مگر خرید لیا امین عشق نے دل بے خطر خرید لیا یہ آئنہ مع آئینہ گر خرید لیا غضب تھا عشق کا سودا کہ اہل ہوش نے بھی جو کچھ نصیب تھا سب بیچ کر خرید لیا بھلا ہو غم کی تنک ظرفیٔ طبیعت کا اگرچہ بات گنوا دی اثر خرید لیا رہ رضا میں ہے ...

    مزید پڑھیے

    مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں

    مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں ہو اعتبار تو پھر تاب انتظار کہاں دلوں میں فرق ہوا جب تو چاہ پیار کہاں چمن چمن ہی نہیں آئے گی بہار کہاں جسے یہ کہہ کے وہ ہنس دیں کہ قصہ اچھا ہے وہ راز کھل کے بھی ہوتا ہے آشکار کہاں امنگ تھی یہ جوانی کی یا کوئی آندھی ملا کے خاک میں ہم کو گئی بہار ...

    مزید پڑھیے

    دل مکدر ہے آئینہ رو کا

    دل مکدر ہے آئینہ رو کا نہ ملا رنگ سے پتا بو کا ہے دم صبح وہ خماریں آنکھ ایک ٹوٹا طلسم جادو کا کم جو ٹھہرے جفا سے میری وفا تو یہ پاسنگ ہے ترازو کا دل کی بے چینیاں خدا کی پناہ تکیہ ہٹ ہٹ گیا ہے پہلو کا کہیں جاتی بہار رکتی ہے دامن آیا نہ ہاتھ میں بو کا ہے نئی قید اب یہ آزادی زور ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 5