پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوں
پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوں میں وہ نہیں کہ نگاہیں بچا بچا کے پیوں مٹا دئے ہیں سب احساس اف رے ذوق شراب سرور کم نہ ہو ترشی بھی گر ملا کے پیوں گنہ پہ تہمت بے لذتی نہ رکھ زاہد مزہ نہ آئے تو کیوں منہ بنا بنا کے پیوں یہ تشنگی شہادت کا اقتضا اب ہے کہ آب تیغ ستم زہر میں ...