Arzoo Lakhnavi

آرزو لکھنوی

ممتاز قبل از جدید شاعر،جگر مرادآبادی کے معاصر

One of the leading pre-modern poets at lucknow, contemporary of Jigar Moradabadi.

آرزو لکھنوی کی غزل

    پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوں

    پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوں میں وہ نہیں کہ نگاہیں بچا بچا کے پیوں مٹا دئے ہیں سب احساس اف رے ذوق شراب سرور کم نہ ہو ترشی بھی گر ملا کے پیوں گنہ پہ تہمت بے لذتی نہ رکھ زاہد مزہ نہ آئے تو کیوں منہ بنا بنا کے پیوں یہ تشنگی شہادت کا اقتضا اب ہے کہ آب تیغ ستم زہر میں ...

    مزید پڑھیے

    بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھے

    بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھے بس اب ذلیل نہ کر اے نگاہ یاس مجھے یہ دل ہے شوق میں بے خود وہ آنکھ نشہ میں چور جھکا نہ دے سوۓ ساغر بھڑکتی پیاس مجھے ادھر ملامت دنیا ادھر ملامت نفس بڑا عذاب ہے آئے ہوئے حواس مجھے پلٹ دو بات نہ لو منہ سے نام رخصت کا ابھی سے گھر نظر آنے لگا اداس ...

    مزید پڑھیے

    کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا

    کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا آگے تو ہیں راہیں اور کٹھن دل پہلے ہی ٹھوکر کھا کے گرا آگے جو بڑھا تھرائے قدم وہ ہنس جو دیے شرما کے گرا بے ہوش نہیں ہشیار تھا میں اٹھنے کا سہارا پا کے گرا دل شوق کے جوش میں دوڑ چلا اور جوش تو ہوتا ہے اندھا در بند پڑا تھا قسمت کا ٹکر جو ...

    مزید پڑھیے

    تقدیر پہ شاکر رہ کر بھی یہ کون کہے تدبیر نہ کر

    تقدیر پہ شاکر رہ کر بھی یہ کون کہے تدبیر نہ کر وا باب اجابت ہو کہ نہ ہو زنجیر ہلا تاخیر نہ کر غم بڑھنے دے اے دل اور ذرا جانچ آہ کی بے تاثیر نہ کر ہے خواب ادھورا آپ ابھی بے سمجھے غلط تعبیر نہ کر جب ظلم کا بدلہ ظلم ہوا مظلوم کا حق کچھ بھی نہ رہا دے درد ہی میں لذت یا رب نالے کو عطا ...

    مزید پڑھیے

    تسکین دل کا یہ کیا قرینہ

    تسکین دل کا یہ کیا قرینہ روکوں جو نالہ پھٹ جائے سینہ بڑھتی امنگیں کیا پر بنیں گی ہے کس ہوا میں دل کا سفینہ ہیں کیا معمہ یہ آگ پانی پیتا ہوں آنسو جلتا ہے سینہ غم تجھ کو پیارا تو مجھ کو پیاری دل کی تمنا نازک حسینہ آج اس نے آنسو ہنس ہنس کے پونچھے خشکی میں ابھرا ڈوبا سفینہ تاریخ ...

    مزید پڑھیے

    وہ سر بام کب نہیں آتا

    وہ سر بام کب نہیں آتا جب میں ہوتا ہوں تب نہیں آتا بہر تسکیں وہ کب نہیں آتا اعتبار آہ اب نہیں آتا چپ ہے شکوؤں کی ایک بند کتاب اس سے کہنے کا ڈھب نہیں آتا ان کے آگے بھی دل کو چین نہیں بے ادب کو ادب نہیں آتا زخم سے کم نہیں ہے اس کی ہنسی جس کو رونا بھی اب نہیں آتا منہ کو آ جاتا ہے جگر ...

    مزید پڑھیے

    پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا

    پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا خندۂ گل سے اڑا وہ شرارہ خرمن دل پر پھول پڑا دیکھ ادھر او نیند کے ماتے کس کی اچانک یاد آئی بیچ سے ٹوٹی ہے انگڑائی ہاتھ اٹھتے ہی جھول پڑا حسن و عشق کی ان بن کیا ہے دل کے پھنسانے کا پھندا اپنے ہاتھوں خود آفت میں جا کے یہ نامعقول پڑا کون کہے ...

    مزید پڑھیے

    رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانی

    رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانی سینکڑوں ڈوب گئے پھر بھی ہے اتنا پانی آنکھ سے بہہ نہیں سکتا ہے بھرم کا پانی پھوٹ بھی جائے گا چھالا تو نہ دے گا پانی چاہ میں پاؤں کہاں آس کا میٹھا پانی پیاس بھڑکی ہوئی ہے اور نہیں ملتا پانی دل سے لوکا جو اٹھا آنکھ سے ٹپکا پانی آگ سے آج نکلتے ...

    مزید پڑھیے

    دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھا

    دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھا ان کو بزم ناز تھی اور مجھ کو خلوت خانہ تھا کھینچ لایا تھا یہ کس عالم سے کس عالم میں ہوش اپنا حال اپنے لیے جیسے کوئی افسانہ تھا چھوٹے چھوٹے دو ورق جل جل کے دفتر بن گئے درس حسرت دے رہا تھا جو پر پروانہ تھا جان کر وارفتہ ان کے چھیڑنے کی دیر ...

    مزید پڑھیے

    معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے

    معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے دل آپ نشانہ بنتا ہے وہ تیر چلانا کیا جانے کہہ جاتی ہے کیا وہ چین جبیں یہ آج سمجھ سکتے ہیں کہیں کچھ سیکھا ہوا تو کام نہیں دل ناز اٹھانا کیا جانے چٹکی جو کلی کوئل کوکی الفت کی کہانی ختم ہوئی کیا کس نے کہی کیا کس نے سنی یہ بتا زمانہ کیا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 5 سے 5