آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں
آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں اب عہد وفا ٹوٹا کہ رہا تم اور کہیں ہم اور کہیں بے آپ خوشی سے ایک ادھر کچھ کھویا ہوا سا ایک ادھر ظاہر میں بہم باطن میں جدا تم اور کہیں ہم اور کہیں آئے تو خوشامد سے آئے بیٹھے تو مروت سے بیٹھے ملنا ہی یہ کیا جب دل نہ ملا تم اور کہیں ...