Arzoo Lakhnavi

آرزو لکھنوی

ممتاز قبل از جدید شاعر،جگر مرادآبادی کے معاصر

One of the leading pre-modern poets at lucknow, contemporary of Jigar Moradabadi.

آرزو لکھنوی کی غزل

    آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں

    آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں اب عہد وفا ٹوٹا کہ رہا تم اور کہیں ہم اور کہیں بے آپ خوشی سے ایک ادھر کچھ کھویا ہوا سا ایک ادھر ظاہر میں بہم باطن میں جدا تم اور کہیں ہم اور کہیں آئے تو خوشامد سے آئے بیٹھے تو مروت سے بیٹھے ملنا ہی یہ کیا جب دل نہ ملا تم اور کہیں ...

    مزید پڑھیے

    ہاں دید کا اقرار اگر ہو تو ابھی ہو

    ہاں دید کا اقرار اگر ہو تو ابھی ہو اور یوں ہو کہ دیدار اگر ہو تو ابھی ہو تقدیر سے ڈرتا ہوں کہ پھر مت نہ پلٹ جائے تم دل کے خریدار اگر ہو تو ابھی ہو دیدار کو کل کہہ کے قیامت پہ وہ ٹالیں اور شوق کا اصرار اگر ہو تو ابھی ہو بدلا ہوا ہر عہد نیا لاتا ہے پیغام یہ کیا کہ ہر اقرار اگر ہو تو ...

    مزید پڑھیے

    آنکھ سے دل میں آنے والا

    آنکھ سے دل میں آنے والا دل سے نہیں اب جانے والا گھر کو پھونک کے جانے والا پھر کے نہیں ہے آنے والا دوست تو ہے نادان ہے لیکن بے سمجھے سمجھانے والا آنسو پونچھ کے ہنس دیتا ہے آگ میں آگ لگانے والا ہے جو کوئی تو دھیان اسی کا آنے والا جانے والا حسن کی بستی میں ہے یارو کوئی ترس بھی ...

    مزید پڑھیے

    خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریں

    خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریں وہ تو ہیں راجہ ہم بنیں پرجا اور جھک جھک کے سلام کریں کھل پڑنے میں ناکامی ہے گم ہو کر کچھ کام کریں دیس پرانا بھیس بنا ہو نام بدل کر نام کریں دونوں جہاں میں خدمت تیری خادم کو مخدوم بنائے پریاں جس کے پاؤں دبائیں حوریں جس کا کام کریں ہجر ...

    مزید پڑھیے

    بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو

    بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو جس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو رسمیں اس اندھیر نگر کی نئی نہیں یہ پرانی ہیں مہر پہ ڈالو رات کا پردہ ماہ کو روشن رہنے دو روح نکل کر باغ جہاں سے باغ جناں میں جا پہنچے چہرے پہ اپنے میری نگاہیں اتنی دیر تو رہنے دو خندۂ گل ...

    مزید پڑھیے

    آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیں

    آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیں سب دوست ہیں اپنے مطلب کے دنیا میں کسی کا کوئی نہیں گلگشت میں دامن منہ پہ نہ لو نرگس سے حیا کیا ہے تم کو اس آنکھ سے پردہ کرتے ہو جس آنکھ میں پردا کوئی نہیں جو باغ تھا کل پھولوں سے بھرا اٹکھیلیوں سے چلتی تھی صبا اب سنبل و گل کا ذکر تو ...

    مزید پڑھیے

    گورے گورے چاند سے منہ پر کالی کالی آنکھیں ہیں

    گورے گورے چاند سے منہ پر کالی کالی آنکھیں ہیں دیکھ کے جن کو نیند آ جائے وہ متوالی آنکھیں ہیں منہ سے پلا کیا سرکانا اس بادل میں بجلی ہے سوجھتی ہے ایسی ہی نہیں جو پھوٹنے والی آنکھیں ہیں چاہ نے اندھا کر رکھا ہے اور نہیں تو دیکھنے میں آنکھیں آنکھیں سب ہیں برابر کون نرالی آنکھیں ...

    مزید پڑھیے

    وہ بن کر بے زباں لینے کو بیٹھے ہیں زباں مجھ سے

    وہ بن کر بے زباں لینے کو بیٹھے ہیں زباں مجھ سے کہ خود کہتے نہیں کچھ اور کہلواتے ہیں ہاں مجھ سے بہت کچھ حسن ظن رکھتا ہے میرا مہرباں مجھ سے کہ تہمت دھر کے ہے خواہان تائید بیاں مجھ سے کسی گل کی قبا ملتی نہیں تحریق سے خالی جنوں نے لے کے بانٹی ہیں یہ کتنی دھجیاں مجھ سے پلا ساقی کہ رہ ...

    مزید پڑھیے

    کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا

    کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا موج دریا خود لگا لیتی ہے ساحل کا پتا ہے نشان لیلیٰ مقصود محمل کا پتا دل ربا ہاتھ آ گیا پایا جہاں دل کا پتا راہ الفت میں سمجھ لو دل کو گونگا رہ نما ساتھ ہے اور دے نہیں سکتا ہے منزل کا پتا کہتا ہے ناصح کہ واپس جاؤ اور میں سادہ لوح پوچھتا ہوں ...

    مزید پڑھیے

    ہر سانس ہے اک نغمہ ہر نغمہ ہے مستانہ

    ہر سانس ہے اک نغمہ ہر نغمہ ہے مستانہ کس درجہ دکھے دل کا رنگین ہے افسانہ جو کچھ تھا نہ کہنے کا سب کہہ گیا دیوانہ سمجھو تو مکمل ہے اب عشق کا افسانہ دو زندگیوں کا ہے چھوٹا سا یہ افسانہ لہرایا جہاں شعلہ اندھا ہوا پروانہ ان رس بھری آنکھوں سے مستی جو ٹپکتی ہے ہوتی ہے نظر ساقی دل بنتا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 5