اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے
اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے سیدھی بھی چھری ٹیڑھی بھی چھری دل دوز نظر قاتل ہی تو ہے جب ہوک اٹھے گی تڑپے گا انصاف نہ چھوڑو دل ہی تو ہے ناچند تھکن کا صبر و سکوں بسمل آخر بسمل ہی تو ہے طوفان بلا کی موجوں میں کیں بند آنکھیں اور پھاند پڑے کشتی نے جہاں ٹکر کھائی دل ...