Arzoo Lakhnavi

آرزو لکھنوی

ممتاز قبل از جدید شاعر،جگر مرادآبادی کے معاصر

One of the leading pre-modern poets at lucknow, contemporary of Jigar Moradabadi.

آرزو لکھنوی کی غزل

    اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے

    اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے سیدھی بھی چھری ٹیڑھی بھی چھری دل دوز نظر قاتل ہی تو ہے جب ہوک اٹھے گی تڑپے گا انصاف نہ چھوڑو دل ہی تو ہے ناچند تھکن کا صبر و سکوں بسمل آخر بسمل ہی تو ہے طوفان بلا کی موجوں میں کیں بند آنکھیں اور پھاند پڑے کشتی نے جہاں ٹکر کھائی دل ...

    مزید پڑھیے

    حسن سے شرح ہوئی عشق کے افسانے کی

    حسن سے شرح ہوئی عشق کے افسانے کی شمع لو دے کے زباں بن گئی پروانے کی شان بستی سے نہیں کم مرے ویرانے کی روح ہر بونڈلے میں ہے کسی دیوانے کی آمد موسم گل کی ہے خبر دور دگر تازگی چاہئے کچھ ساخت میں پیمانے کی آئی ہے کاٹ کے میعاد اسیری کی بہار ہتکڑی کھل کے گری جاتی ہے دیوانے کی سرد اے ...

    مزید پڑھیے

    اول شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی

    اول شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی رات کے آخر ہوتے ہوتے ختم تھا یہ افسانہ بھی قید کو توڑ کے نکلا جب میں اٹھ کے بگولے ساتھ ہوئے دشت عدم تک جنگل جنگل بھاگ چلا ویرانہ بھی ہاتھ سے کس نے ساغر پٹکا موسم کی بے کیفی پر اتنا برسا ٹوٹ کے بادل ڈوب چلا مے خانہ بھی ایک لگی کے دو ہیں ...

    مزید پڑھیے

    وہ کیا لکھتا جسے انکار کرتے بھی حجاب آیا

    وہ کیا لکھتا جسے انکار کرتے بھی حجاب آیا جواب خط نہیں آیا تو یہ سمجھو جواب آیا قریب صبح یہ کہہ کر اجل نے آنکھ جھپکا دی ارے او ہجر کے مارے تجھے اب تک نہ خواب آیا دل اس آواز کے صدقے یہ مشکل میں کہا کس نے نہ گھبرانا نہ گھبرانا میں آیا اور شتاب آیا کوئی قتال صورت دیکھ لی مرنے لگے اس ...

    مزید پڑھیے

    ہیں دیس بدیس ایک گزر اور بسر میں

    ہیں دیس بدیس ایک گزر اور بسر میں بے آس کو کب چین ملا ہے کسی گھر میں چپ میں نے لگائی تو ہوا اس کا بھی چرچا جو بھید نہ کھلتا ہو وہ کھل جاتا ہے ڈر میں سورج کا گھمنڈ اور نہیں تارے کے برابر ایسی ہی تو باتیں ہیں اس اندھیر نگر میں وہ ٹل نہیں سکتی جو پہنچنے کی گھڑی ہے چلتا رہے گلیوں میں ...

    مزید پڑھیے

    پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی

    پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی آنسو میں کوندتی ہوئی بجلی جھلک گئی کب تک یہ جھوٹی آس کہ اب آئے وہ اب آئے پلکیں جھکیں پپوٹے تنے آنکھ تھک گئی کھلنا کہیں چھپا بھی ہے چاہت کے پھول کا لی گھر میں سانس اور گلی تک مہک گئی آنسو رکے تھے آنکھ میں دھڑکن کا ہو برا ایسی تکان دی کی پیالی ...

    مزید پڑھیے

    وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھا

    وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھا کل بدل جائے گی دنیا مجھے معلوم نہ تھا حسن ہے مشغلۂ ظلم کو گہرا پردہ پس پردہ ہے اندھیرا مجھے معلوم نہ تھا عشق وہ شے ہے کہ چرکے بھی مزہ دیتے ہیں ورنہ قاتل ہیں حسیں کیا مجھے معلوم نہ تھا دل کی ضد اس لئے رکھ لی تھی کہ آ جائے قرار کل یہ کچھ اور ...

    مزید پڑھیے

    دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں

    دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں یعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوں آہ میں درد کی تاثیر لیے بیٹھا ہوں دل میں اک خون بھرا تیر لیے بیٹھا ہوں اک ذرا سی خلش درد جگر پر یہ گھمنڈ جیسے کل عشق کی جاگیر لیے بیٹھا ہوں ہے مجھے ساز طرب سوختہ سامانی دل پردۂ خاک میں اکسیر لیے بیٹھا ہوں چور ...

    مزید پڑھیے

    یہ داستان دل ہے کیا ہو ادا زباں سے

    یہ داستان دل ہے کیا ہو ادا زباں سے آنسو ٹپک رہے ہیں لفظیں ملیں کہاں سے ہے ربط دو دلوں کو بے ربطیٔ بیاں سے کچھ وہ کہیں نظر سے کچھ ہم کہیں زباں سے یہ روتے روتے ہنسنا ترتیب ذکر غم ہے آیا ہوں ابتدا پر چھیڑا تھا درمیاں سے حاصل تو زندگی کا تھی زندگی یہیں کی اب میں ہوں اک جنازہ اٹھوا دو ...

    مزید پڑھیے

    جو دل ساتھ چھٹنے سے گھبرا رہا ہے

    جو دل ساتھ چھٹنے سے گھبرا رہا ہے وہ چھٹتا نہیں اور پاس آ رہا ہے ہمیشہ کو پھولے پھلے گا یہ گلشن ابھی دیکھنے کو تو مرجھا رہا ہے ہر اک شام کہتی ہے پھر صبح ہوگی اندھیرے میں سورج نظر آ رہا ہے بڑھی جا رہی ہے اگر دھوپ آگے تو سایہ بھی دوڑا چلا جا رہا ہے ستارے بنیں گے چمک دار آنسو یہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 5