اسیر گردش دوراں ہوئے ہیں

اسیر گردش دوراں ہوئے ہیں
مرے جینے کے یہ ساماں ہوئے ہیں


جو آئے روبرو ہم آئنے کے
تو خود کو دیکھ کر حیراں ہوئے ہیں


فقیروں کی طرح رہتے تھے لیکن
وہ سلطانوں کے بھی سلطاں ہوئے ہیں


اک ایسا وقت بھی آیا ہے لوگو
کہ خود پر آپ نوحہ خواں ہوئے ہیں


ہوئے منصورؔ جب بیگانہ خود سے
ہمارے خوں بہت ارزاں ہوئے ہیں