اب ملاقات ایک کام ہوئی

اب ملاقات ایک کام ہوئی
یہ محبت بھی یوں تمام ہوئی


ہم نے گو خوب باندھ لی تمہید
آخرش بس اسی کا نام ہوئی


اب تمہیں وقت چاہئے واہ واہ
میری نا وقت جا کے خام ہوئی


بیچ کر تم نے کی کھری قیمت
خواہ وہ درہم ہوئی کہ دام ہوئی


موت سے خوب یاریاں گانٹھیں
تب کہیں جا کے زیست رام ہوئی


تیری روشن جبیں سے زلفوں تک
زندگانی کی صبح شام ہوئی


زندگی ہے طویل سب نے کہا
چل کے دیکھا تو ایک گام ہوئی