نہ مصلحت نہ تکلف نہ انکسار کا ہے
نہ مصلحت نہ تکلف نہ انکسار کا ہے سوال ٹوٹتے رشتوں کے اعتبار کا ہے اٹھا لے ہاتھ میں پتھر اگر سنے کوئی عجیب حال مرے ذہن کی پکار کا ہے حد نگاہ سے آگے بھی منزلیں ہیں بہت مرا ارادہ غم ذات سے فرار کا ہے سبھی چلے گئے گھر چھوڑ کر تو کیا ہوگا بچائے شہر کو یہ کام شہریار کا ہے ذرا ہٹے تو ...