Masoom Ansari

معصوم انصاری

معصوم انصاری کے تمام مواد

15 غزل (Ghazal)

    نہ مصلحت نہ تکلف نہ انکسار کا ہے

    نہ مصلحت نہ تکلف نہ انکسار کا ہے سوال ٹوٹتے رشتوں کے اعتبار کا ہے اٹھا لے ہاتھ میں پتھر اگر سنے کوئی عجیب حال مرے ذہن کی پکار کا ہے حد نگاہ سے آگے بھی منزلیں ہیں بہت مرا ارادہ غم ذات سے فرار کا ہے سبھی چلے گئے گھر چھوڑ کر تو کیا ہوگا بچائے شہر کو یہ کام شہریار کا ہے ذرا ہٹے تو ...

    مزید پڑھیے

    محبت کے سفر میں بے رخی سے چوٹ لگتی ہے

    محبت کے سفر میں بے رخی سے چوٹ لگتی ہے جسے ہم پیار کرتے ہیں اسی سے چوٹ لگتی ہے ضرورت سے زیادہ گفتگو اچھی نہیں لگتی ضرورت سے زیادہ خامشی سے چوٹ لگتی ہے مجھے بے خواب راتوں سے کوئی شکوہ نہیں پھر بھی اندھیرا ڈستا ہے اور چاندنی سے چوٹ لگتی ہے شکستہ اور سونی کھڑکیاں آوازے کستی ...

    مزید پڑھیے

    جس پر دل روتا ہے وہ بھی ہنس کر کرنا پڑتا ہے

    جس پر دل روتا ہے وہ بھی ہنس کر کرنا پڑتا ہے اپنے گھر کی رونق کو خود بے گھر کرنا پڑتا ہے اچھے اچھے دب جاتے ہیں رسم زمانہ کے آگے دیکھ کے چپ رہتے ہیں دل کو پتھر کرنا پڑتا ہے آنے والے دن کی فکریں خوابوں کو ڈس لیتی ہیں نیند سے جلتی آنکھوں کو بے منظر کرنا پڑتا ہے چاہنے اور چاہے جانے کی ...

    مزید پڑھیے

    میں بے امان سہی پھر بھی یہ گمان تو ہے

    میں بے امان سہی پھر بھی یہ گمان تو ہے زمیں ہے پاؤں تلے سر پہ آسمان تو ہے ہر ایک لمحہ کسی تیر کا ہے ڈر لیکن میں مطمئن ہوں کہ میرے پروں میں جان تو ہے میں اس طرح در و دیوار سے ہوں بیگانہ کہ گھر نہیں نہ سہی گھر کا اک نشان تو ہے میں اپنی کشتئ امید سے نہیں مایوس پھٹا پرانا سہی پھر بھی ...

    مزید پڑھیے

    سامنے بیٹھ کے کچھ بات بھی ہو سکتی ہے

    سامنے بیٹھ کے کچھ بات بھی ہو سکتی ہے آپ چاہیں تو ملاقات بھی ہو سکتی ہے کس نے سمجھا ہے بدلتے ہوئے موسم کا مزاج دھوپ رہتے ہوئے برسات بھی ہو سکتی ہے ہاتھ آئی ہوئی بازی پہ بہت ناز نہ کر جیتنے والے تجھے مات بھی ہو سکتی ہے وادئ شب میں چراغوں کا یہ لشکر کیسا کوئی بھٹکی ہوئی بارات بھی ...

    مزید پڑھیے

تمام