Shifa Gwaliari

شفا گوالیاری

شفا گوالیاری کے تمام مواد

16 غزل (Ghazal)

    ہم جنوں کو زندگی کا مستقر سمجھا کئے

    ہم جنوں کو زندگی کا مستقر سمجھا کئے اے شفاؔ منزل کدھر تھی اور کدھر سمجھا کئے وائے یہ کوتاہیٔ احساس و تنگیٔ نظر زندگی کو زندگی بھر مختصر سمجھا کئے کارواں پہنچے قریب سعیٔ انجام سفر اور ہم مفہوم آغاز سفر سمجھا کئے بے خودی نے کس قدر گمراہ رکھا عشق کو ہم تصور ہی کو حسن معتبر سمجھا ...

    مزید پڑھیے

    غم کی جو لذتیں ہیں انہیں جاوداں بنا

    غم کی جو لذتیں ہیں انہیں جاوداں بنا درد نہاں کو چارۂ درد نہاں بنا امید و یاس جس میں نہ ہوں وہ جہاں بنا یعنی نئی زمیں نیا آسماں بنا اور آرزوئے سیر چمن کو بہار میں اور اے اسیر کنج قفس آشیاں بنا مشق وفا میں کیا کہوں یہ غم نصیب دل کن مشکلوں سے خوگر ضبط فغاں بنا وہم و خیال پر بھی ...

    مزید پڑھیے

    کون آ گیا یہ حشر کا ساماں لئے ہوئے

    کون آ گیا یہ حشر کا ساماں لئے ہوئے دامن میں اپنے میرا گریباں لئے ہوئے ہر ایک غم ہے عیش کا عنواں لئے ہوئے شام خزاں ہے صبح بہاراں لئے ہوئے سجدہ ہے میرا ذوق فراواں لئے ہوئے اٹھے گا اب تو سر در جاناں لئے ہوئے بعد رہائی بھی نہ میں زنداں سے جاؤں گا بیٹھا رہوں گا عزت زنداں لئے ہوئے اب ...

    مزید پڑھیے

    ذوق سجدہ ایک نقش کامراں بنتا گیا

    ذوق سجدہ ایک نقش کامراں بنتا گیا آستاں پر ان کے میرا آستاں بنتا گیا بے نشانی کے سہارے پر نشاں بنتا گیا ضامن منزل غبار کارواں بنتا گیا قدرتاً بربادیوں کی داستاں بنتا گیا خود بخود بجلی کی زد میں آشیاں بنتا گیا کیا خطا صیاد کی اور باغباں کا کیا قصور گلستاں میں خود تو ننگ گلستاں ...

    مزید پڑھیے

    حد عنواں سے آگے آخر افسانے کہاں جاتے

    حد عنواں سے آگے آخر افسانے کہاں جاتے تری محفل سے بڑھ کر تیرے دیوانے کہاں جاتے حقیقت سے گزر کر آئنہ خانے کہاں جاتے اگر ہم تک نہیں آتے تو پیمانے کہاں جاتے غم دوراں نے بڑھ کر لو بڑھا دی شمع ہستی کی غم جاناں کے یہ بھٹکے ہوئے جانے کہاں جاتے نگاہیں تھیں ہماری فرق خاص و عام سے آگے اگر ...

    مزید پڑھیے

تمام