زخم کے ہونٹ پر لعاب اس کا
زخم کے ہونٹ پر لعاب اس کا
خوش بہت ہے مجھے خوش آب اس کا
اس نے اپلوں پہ دیگچی رکھی
اور پکنے لگا شباب اس کا
عشق نے پھر کسی کو بھیجا ہے
خیر مقدم کرے چناب اس کا
تجھ تمنا میں جو عبادت کی
کیا تجھے بخش دوں ثواب اس کا
قوس پر سے عمود اٹھتا ہوا
یعنی پھر جل اٹھا ہے خواب اس کا
دائرہ دائرے کو چھوتا ہوا
اور قوسین پر حجاب اس کا