بھٹک نہ جائے خدایا نظر کتابوں میں
بھٹک نہ جائے خدایا نظر کتابوں میں گزرتے ہیں مرے شام و سحر کتابوں میں جہان بھر میں ہیں جاذب ہزارہا چیزیں مگر نظر نے بنایا ہے گھر کتابوں میں ہزار حیف ہمیں بہرہ یاب ہو نہ سکے کہاں کہاں کا تھا علم و ہنر کتابوں میں وہ علم ذات کہ جس کی ہمیں خبر نہ ہوئی وہ علم ذات بھی تھا جلوہ گر ...