طبیعت بے نیاز جوش وحشت ہو تو سکتی ہے
طبیعت بے نیاز جوش وحشت ہو تو سکتی ہے جو تم چاہو تو بہتر میری حالت ہو تو سکتی ہے وہ دل لینے چلے ہیں اک نگاہ ناز کے بدلے چلو اس جنس کی بھی کوئی قیمت ہو تو سکتی ہے نہیں اہل وفا کی قدر تیری بزم میں لیکن کبھی ان سرفروشوں کی ضرورت ہو تو سکتی ہے دعائیں مانگتے تھے صبح نو کی یہ نہ سوچا ...