اسے اپنا بنا کر دیکھنا ہے
اسے اپنا بنا کر دیکھنا ہے
یہ جوکھم بھی اٹھا کر دیکھنا ہے
کریں باتیں دلوں کی ہم دو جاناں
جہاں سارا بھلا کر دیکھنا ہے
کہ لفظوں کو بنانا ہے ستارے
کتابوں کو سجا کر دیکھنا ہے
سر محفل کریں جو دل فریبی
اب ان کو آزما کر دیکھنا ہے
اندھیروں سے نبھانا ہے مجھے اب
چراغوں کو بجھا کر دیکھنا ہے