تجھے اپنا بنانا چاہتا ہوں
تجھے اپنا بنانا چاہتا ہوں
میں قسمت آزمانا چاہتا ہوں
تجھے دل میں بٹھانا چاہتا ہوں
نئی دنیا بسانا چاہتا ہوں
غم دوراں سے گر مل جائے فرصت
میں ہنسنا مسکرانا چاہتا ہوں
بہت دعویٰ ہے تجھ کو دوستی کا
تجھے بھی آزمانا چاہتا ہوں
بہت تڑپا رہی ہیں اس کی یادیں
میں اس کو بھول جانا چاہتا ہوں
مرے رب کی حفاظت میں ہے کشتی
یہ طوفاں کو بتانا چاہتا ہوں
سبق انس و محبت کا ذکیؔ میں
زمانہ کو پڑھانا چاہتا ہوں