ہم سے روٹھی ہر خوشی ہے آج کل
ہم سے روٹھی ہر خوشی ہے آج کل
کشمکش میں زندگی ہے آج کل
اب شمار دشمناں ممکن نہیں
دوستوں کی ہی کمی ہے آج کل
جہل کا ہے بول بالا چار سو
آگہی عنقا ہوئی ہے آج کل
لفظ کو برتا سلیقے سے مگر
معنویت کی کمی ہے آج کل
نغمگی اس میں نہ شعریت کہیں
شاعری بے کیف سی ہے آج کل
ہے تقاضہ وقت کا کیا کیجئے
دشمنوں سے دوستی ہے آج کل
امن گر قائم رہے تو کس طرح
شرپسندی بڑھ گئی ہے آج کل
انقلاب آئے گا کیسے اے ذکیؔ
سرفروشوں کی کمی ہے آج کل