Khaleel Husain Balooch

خلیل حسین بلوچ

خلیل حسین بلوچ کے تمام مواد

10 غزل (Ghazal)

    آگ آنگن میں خود لگا دی ہے

    آگ آنگن میں خود لگا دی ہے جس نے انصاف کی ندا دی ہے بھائی دو بٹ گئے زمینوں میں گھر میں دیوار اک بنا دی ہے تم ہی ابلیس کے سپاہی ہو تم نے تقسیم کو ہوا دی ہے اک صدا اس نے ان سنی کر دی بارہا ہم نے کب صدا دی ہے روشنی ہجر میں اذیت تھی جب بھی شمع جلی بجھا دی ہے جھوٹ کی آر پار لذت نے سچ کی ...

    مزید پڑھیے

    ہر وقت ستاتا ہے سدھر کیوں نہیں جاتا

    ہر وقت ستاتا ہے سدھر کیوں نہیں جاتا وہ سوچ کے پردے سے اتر کیوں نہیں جاتا کچھ لوگ محلے کے یہی سوچ رہے ہیں گر ہوش پہ قائم ہوں تو گھر کیوں نہیں جاتا جس سمت رواں ہیں یہ دھواں دھول مسافر اس سمت مرا ذوق سفر کیوں نہیں جاتا ہر عہد محبت پہ پشیماں ہے وہ آخر کیوں عذر تراشے ہے مکر کیوں نہیں ...

    مزید پڑھیے

    راہ تاریک میں کرتے ہیں اجالے لے جا

    راہ تاریک میں کرتے ہیں اجالے لے جا ٹھہر دیتا ہوں تجھے پیر کے چھالے لے جا آمد وصل پہ بندش ہے انوکھی کوئی ہجر سرکار کے پھونکے ہوئے تالے لے جا میرے اشعار غم جاں کا ثمر ہیں آخر میں نے ہیں درد بہت ناز سے پالے لے جا فتوائے فسق لگا شوق سے لیکن مجھ سے اپنے دو چار گناہوں کے حوالے لے ...

    مزید پڑھیے

    حالات کی چیخوں پہ کبھی کان دھریں گے

    حالات کی چیخوں پہ کبھی کان دھریں گے ہر خوف میں سہمی ہوئی آواز سنیں گے یہ لازم و ملزوم نہیں ہوش میں آؤں کب خمر تھی آنکھیں ہیں کئی روز لگیں گے افلاک سے لوٹی ہے دعا آ کے ذرا دیکھ ہر حرف کے چہرے پہ تجھے سوگ دکھیں گے نا امن کی خواہش کو کبھی خوف سمجھنا میداں میں ہمیں دیکھ ترے ہوش اڑیں ...

    مزید پڑھیے

    دیپ یادوں کے دفینوں پہ جلا کر سوئے

    دیپ یادوں کے دفینوں پہ جلا کر سوئے خود پہ افتاد نئی روز اٹھا کر سوئے دل کے ارمان کئی اہل سخن رات گئے ایک گمنام اداسی کو سنا کر سوئے پھر شب ہجر کے سینے پہ لگائی ٹھوکر شعر دو چار نئے پھر سے بنا کر سوئے مجھ کو اک بحر اذیت کا حوالہ دے کر شب کہیں وصل کے دریا میں نہا کر سوئے وہ تری ہاں ...

    مزید پڑھیے

تمام