تیرا سلوک مجھ سے ہے اغیار کی طرح

تیرا سلوک مجھ سے ہے اغیار کی طرح
آنکھوں میں جو کھٹکتا ہوں میں خار کی طرح


مبہم ہر اک بات صنم کی لگے مجھے
اقرار بھی لگے مجھے انکار کی طرح


شطرنج جیسی مجھ کو لگے ہے یہ زندگی
چلنا ہر ایک چال سمجھ دار کی طرح


شاعر سمجھ کے تجھ کو بلایا تھا بزم میں
غزلوں کو یوں نہ گا تو گلو کار کی طرح


ہوش و حواس گم ہیں جو اس کے فراق میں
خود کو سمجھ رہا ہوں میں بیمار کی طرح


سائل تمہارے در پہ جو آئے کبھی ذکی
اس کو نوازیئے کسی دل دار کی طرح


قابو میں رکھ زبان کو اپنی سدا ذکیؔ
رشتوں کو کاٹتی ہے یہ تلوار کی طرح