تماشہ کر رہے ہو مر رہے ہو

تماشہ کر رہے ہو مر رہے ہو
کہ جتنا ڈر رہے ہو مر رہے ہو


یوں ہی چلتی رہے گی زندگانی
مگر تم مر رہے ہو مر رہے ہو


عجب سی بات ہے تم نے سنائی
کہ جب سے گھر رہے ہو مر رہے ہو


جوانی ڈھل رہی ہے مال و زر بھی
کبھی برتر رہے ہو مر رہے ہو


ابھی مٹی میں ملنا ہے جو ماہتابؔ
در و بے در رہے ہو مر رہے ہو