جو شاعرات کے چکر میں عشق کرتے ہیں
جو شاعرات کے چکر میں عشق کرتے ہیں
وہ صرف بات کے چکر میں عشق کرتے ہیں
گزارشات کے چکر میں عشق کرتے ہیں
سبھی ممات کے چکر میں عشق کرتے ہیں
شکستگی کے ستائے ہوئے زمانے میں
دل ثبات کے چکر میں عشق کرتے ہیں
میں اختیار کے ہر مرحلے سے باہر ہوں
وہ اپنی گھات کے چکر میں عشق کرتے ہیں
جنہیں کبھی کسی مشکل کا سامنا نہ ہو
وہ مشکلات کے چکر میں عشق کرتے ہیں
یہ عشق پیار محبت نہیں کوئی کچھ بھی
سہاگ رات کے چکر میں عشق کرتے ہیں
زمانہ خود ہی طلب گار ہو رہا ان کا
جو معجزات کے چکر میں عشق کرتے ہیں
یہ موت معنی نہیں رکھتی کوئی بھی اپنا
سبھی حیات کے چکر میں عشق کرتے ہیں
کہیں ملے گا کوئی تو سراغ دنیا کا
سو کائنات کے چکر میں عشق کرتے ہیں
میں ماہتابؔ ہوں نکلا ہوں جیتنے اس کو
سبھی تو مات کے چکر میں عشق کرتے ہیں