ساتھ رہ میرے نہ جدائی دے

ساتھ رہ میرے نہ جدائی دے
تو مجھے ہر جگہ دکھائی دے


یا تو رکھ لے مجھے تو پاس اپنے
مانگ لے جان یا خدائی دے


آنکھ بننے لگی ہے تل تیرا
دل کی دھڑکن میں بھی سنائی دے


میں اکیلا ہوں اور مخالف لوگ
آ پلٹ آ مری صفائی دے


میرے ہونٹوں کے کھول دے تالے
لب کشا میری لب کشائی دے


لوگ تمثیل یوں کریں مہتابؔ
پارساؤں سی پارسائی دے