ماہتاب دستی کے تمام مواد

7 غزل (Ghazal)

    ہونٹوں پہ میرے پیاس کی اب تشنگی نہیں

    ہونٹوں پہ میرے پیاس کی اب تشنگی نہیں بے بس ہوا ہوں اتنا کہ اب بے بسی نہیں خوشیوں کو پائمال کیا اس قدر مری جھولی میں ایک نام کی بھی اب خوشی نہیں یا زندگی کے ساتھ چلا جائے ہر طرح یا موت ہو قبول اگر زندگی نہیں ہاتھوں میں تیرا ہاتھ ہو دل کے نشان پر کیا تیرے اس جہان میں ایسی گھڑی ...

    مزید پڑھیے

    تماشہ کر رہے ہو مر رہے ہو

    تماشہ کر رہے ہو مر رہے ہو کہ جتنا ڈر رہے ہو مر رہے ہو یوں ہی چلتی رہے گی زندگانی مگر تم مر رہے ہو مر رہے ہو عجب سی بات ہے تم نے سنائی کہ جب سے گھر رہے ہو مر رہے ہو جوانی ڈھل رہی ہے مال و زر بھی کبھی برتر رہے ہو مر رہے ہو ابھی مٹی میں ملنا ہے جو ماہتابؔ در و بے در رہے ہو مر رہے ہو

    مزید پڑھیے

    کیا رہا اے زندگی شام و سحر کوئی نہیں

    کیا رہا اے زندگی شام و سحر کوئی نہیں منزلوں کی داد کیا دیں ہم سفر کوئی نہیں بے ثباتی آ گئی دیوار دل کو پھاند کر مرنے والے مر گئے ہیں نوحہ گر کوئی نہیں کشتیوں کو چھوڑ کر ہم نے لیا اگلا قدم کاروان میر کی لیکن خبر کوئی نہیں روز روتے کاٹتی ہیں شب ڈھلے تنہائیاں چار سو رشتے بھرے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    کب سنی جائے گی صدا خاموش

    کب سنی جائے گی صدا خاموش ہائے کیوں کر مرا خدا خاموش لوگ انگلی اٹھانے تک بھی آئے تو بھی اس وقت تھا رہا خاموش اپنی انگلی لگائی ہونٹوں کو اور مجھ کو کہا گیا خاموش سنسناہٹ تلک نہیں کوئی رات کالی ہوئی ہوا خاموش میں نے مہتابؔ زندگی چھوڑی یعنی مقتل میں ہے دیا خاموش

    مزید پڑھیے

    ساتھ رہ میرے نہ جدائی دے

    ساتھ رہ میرے نہ جدائی دے تو مجھے ہر جگہ دکھائی دے یا تو رکھ لے مجھے تو پاس اپنے مانگ لے جان یا خدائی دے آنکھ بننے لگی ہے تل تیرا دل کی دھڑکن میں بھی سنائی دے میں اکیلا ہوں اور مخالف لوگ آ پلٹ آ مری صفائی دے میرے ہونٹوں کے کھول دے تالے لب کشا میری لب کشائی دے لوگ تمثیل یوں کریں ...

    مزید پڑھیے

تمام