کب سنی جائے گی صدا خاموش
کب سنی جائے گی صدا خاموش
ہائے کیوں کر مرا خدا خاموش
لوگ انگلی اٹھانے تک بھی آئے
تو بھی اس وقت تھا رہا خاموش
اپنی انگلی لگائی ہونٹوں کو
اور مجھ کو کہا گیا خاموش
سنسناہٹ تلک نہیں کوئی
رات کالی ہوئی ہوا خاموش
میں نے مہتابؔ زندگی چھوڑی
یعنی مقتل میں ہے دیا خاموش