میں اپنے پر بھی اڑانیں بھی خود بناؤں گی

میں اپنے پر بھی اڑانیں بھی خود بناؤں گی
نشانہ لیتی کمانیں بھی خود بناؤں گی


ہوا سے فیض کی امید تک نہیں مجھ کو
سو اونچی نیچی اڑانیں بھی خود بناؤں گی


میں حرف لکھوں گی پہلے ورق پہ گھائل سا
پھر اس کی زخم کی تانیں بھی خود بناؤں گی


مکالمہ بھی نیا ہوگا آپسی سب کا
جہان نو کی زبانیں خود بناؤں گی


میں منہدم کروں گی سب غنیم دیواریں
قلعے کے گرد چٹانیں بھی خود بناؤں گی


ہنسی کو میں نے ہی شو کیس میں سجا دیا تھا
اور اب خوشی کی دکانیں بھی خود بناؤں گی


کہیں سے ملتے ہیں پاتال اب تعلق کے
میں یہ عمیق ڈھلانیں بھی خود بناؤں گی