افسانہ

اسی رہگذر پر

پاوشان نے شونا کی کمر میں ہاتھ ڈال دیا اور مسکرا کے بولا ’’اس آسمان کو دیکھو شونا کس قدر نیلا ہے اور بادلوں پر شفق کا ہلکا سرخ رنگ چڑھ گیا ہے اور کہیں کہیں سفید چمکیلی جھلک وہ دیکھو۔ ادھر مغربی پہاڑی پر وہ۔ وہ۔‘‘ شونا نے اپنی بھدری نیم وا آنکھوں سے اوپر دیکھا۔ کوریا کا کھلا ہوا ...

مزید پڑھیے

سائے

اس انوکھے اور رنگین شیشوں کے اونچے اونچے دروازوں والے محل کو نیلام کر کے جیسے زلیخا بیگم کی گود خالی ہو گئی اور ایسی ماں بن گئیں جس کا اکلوتا جوان بیٹا مرگیا ہو! ارمانوں کے پھول مرجھا گئے تھے اور نزدیک کی آوازیں بھی کسی دور جنگل سے آنے والی درختوں کی سائیں سائیں کی طرح کانوں میں ...

مزید پڑھیے

آخری حوَیلی

ہائے یہ حویلی نہ ہوئی ، پورے نو مہینے کا پیٹ ہو گیا جس کا بوجھ عورت کو سنبھالنا دوبھر ہو جاتا ہے… یہ کمبخت حویلی بھی صمصام الدولہ کا بوجھ بنی پڑی تھی۔ ایک دو، نہ پورے پچاس کمرے تھے۔مرّمت کروانا تو ایک طرف ،قلعی پھر دانا بھی بس کی بات نہ تھی جگہ جگہ سے دیواروں پرچو نے کا پلستر ...

مزید پڑھیے

پھر وہی صبح، پھر وہی شام

جلتی ہوئی موم بتیاں مکان میں عجیب سی پر اسرار روشنی بکھیر رہی تھیں اور وہ پلنگ پر چپ چاپ پڑی ٹالسٹائی کو پڑھتے ہیں بار بار چونک جاتی۔ معمولی سی چیز کو بھی کس قدر حسن کارانہ انداز بیان کی ضرورت ہے۔ فانوس میں جلتی ہوئی موم بتیاں ہوا کے جھونکوں سے جھلملانے لگتیں تو دیواروں پر ...

مزید پڑھیے

دو ٹکے کی

زندگی کا سارا حسن کچے رنگ کی طرح چھوٹتا جا رہا تھا اور آندھی کے بیچ جلتے جلتے بھڑک اٹھنے والے چراغ کی طرح نداؔ کے دل میں بھی بار بار کوئی شعلہ سا لپکتا اور وہ بیٹھے بیٹھے سر اٹھا کے کھڑکی سے باہر دیکھنے کی کوشش کرنے لگتی مگر نیچے سڑک پر چلتے راہگیر سفید دھبوں جیسے دکھائی دیتے تو ...

مزید پڑھیے

کھنڈر

اللہ جانے آپ نے وہ ڈیوڑھی دیکھی بھی ہے یا نہیں جہاں سے چوڑیوں والوں کی چھکا چھک روشنی پھینکتی ہوئی دوکانوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ وہیں راستے سے ذرا ہٹ کر صداقت نواز جنگ کی سفید دیواروں اور منقش ستونوں سے گھری ہوئی عظیم الشان ڈیوڑھی، لاتعداد، دروازوں اور کھڑکیوں کے ساتھ کھڑی ...

مزید پڑھیے

جل پری

مُلا کی شادی کی خبر کسی بڑے لطیفے کی طرح دوستوں پر نازل ہوئی جو اس وقت جمعے کی نماز کے بعد ایک چائے خانے میں بیٹھے جی بہلا رہے تھے۔ ’’یقین نہیں آتا ملا جل پری سے کیسے شادی کر سکتا ہے!‘‘ واجد نے کہا جو بچپن سے اس کادوست تھا۔ ’’ٹھیک کہہ رہے ہو، اتنی ڈینگیں مارتا تھا وہ، کہتا تھا ، ...

مزید پڑھیے

لین دین

شام کے گہرے سائے موت کا اذیت ناک بوجھ بن کر نانا صاحب کے دوران میں آہستہ آہست اترتے جارہے تھے۔ اس رنگا رنگ دنیا سے رخصت ہونے کا احساس زردیوں کا روپ اختیار کر کے ان کے جھریوں بھرے چہرے کی ایک ایک شکن، ایک ایک سلوٹ میں سماتا جارہا تھا۔ اردگرد کا ماحول بڑا غم انگیز ہو گیا تھا۔ حیات ...

مزید پڑھیے

حاصل زندگی

برسوں بعد آئینہ کے سامنے کھڑی وہ اس سراپے کو بغور دیکھ رہی تھی جس کے بالوں میں اب ان گنت چاندی کے تار جھلملارہے تھے۔ وہ اِس چہرے میںاس چہرے کو تلاش کر رہی تھی جو کبھی موسم سرما کی چمکیلی اور سنہری دھوپ کے مانند روشن تھا۔ نہ جانے کہاں کھو گیا تھا وہ روشن چہرہ؟ وہ اس کی کھوج ...

مزید پڑھیے

کوئی منزل نہیں

گاڑی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔میں کھڑکی سے لگی اپنے خیالوں میں گم لمحہ لمحہ اس شہر سے دور ہوتی جا رہی تھی۔اس شہر سے جہاں یہ خوف غالب تھا کہ اگر کچھ دن اور یہاں رہ گئی تو بدنامی اور رسوائی کے چھینٹے میرے دامن کو داغدار کر دیں گے۔ گاڑی اب شہر کی حدود کو پار کر چکی تھی۔میں نے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 96 سے 233