افسانہ

جنگل میں منگل

وہ ایک گھنا جنگل تھا اور جنگل میں منگل تھا۔ منگل میں ہمارے تمہاری طرح کے لوگ بستے تھے اور وہی جنگل کی رعایا تھی۔ اس گھنے جنگل میں درندوں کا راج تھا۔ وہ درندے بھی ہمارے تمہاری طرح کے انسان تھے۔ اگر انسان نہیں تھے توانسان نما ضرور تھے۔ وہ تمام اختیارات کے مالک تھے۔ جنگل کا نظم ...

مزید پڑھیے

سوئے مقتل

جس وقت وہ کامیاب ہو کر لوٹا دونوں نے اس کا گرمجوشی سے استقبال کیا اور حسب معمول اس کی خاطر مدارات میں کسی قسم کی کسر اٹھا نہ رکھی، اسے وہ مشروب بھی پیش کیا گیاجسے پی کر دنیا بدل ہی جایا کرتی تھی، وہ آسمان کی بلندیوں پر پرواز کرتا، چھو ٹے چھوٹے سرمئی اور نارنجی بادلوں کے ٹکڑے اس کا ...

مزید پڑھیے

کیا وہ مر گئی

مظہر رات دیر تک جگتا رہا، صبح اٹھتے ہی اس نے اپنا فیصلہ بلا جھجک اپنی بیوی کے گوش گزار کر دیا تھا، اس کی آنکھوں میں حیرت اور دکھ کے سائے لہرانے لگے تھے اور آنسوؤں کی لڑیاں ٹوٹ ٹوٹ کر اس کے رخساروں کو بھگو رہی تھیں۔ ’’بولو! میں کیا کرسکتا ہوں، ڈاکہ ڈالوں چوری کروں، تمہیں اچھی طرح ...

مزید پڑھیے

لذت غم

رات ۱۲بجے کا وقت تھا، سردیوں کا زمانہ، سڑکیں سنسان اورریسٹورینٹ ویران تھے، ٹھنڈی ہوائیں جسم سے ٹکراتیں تو یوں محسوس ہوتا کہ جیسے ناکردہ گناہوں کی سزا نے برف کی سل جسم سے باندھ دی ہو، اس نے یخ بستہ ہواؤں سے بچنے کے لئے مفلر کو اپنے کاندھوں کے گرد اچھی طرح لپیٹ لیا اور اپنے دونوں ...

مزید پڑھیے

وہ دونوں

آ ج پھر میں نے ان دونوں کو بالکنی میں کھڑے دیکھا تھا۔ بادل گھر آئے تھے اور ہلکی پھوار میں وہ دونوں ریلنگ پر جھکے نیچے دیکھ رہے تھے جہاں سڑک پر اکا دکا آدمی چھا تا سروں پر کھولے آہستہ آہستہ آ جا رہے تھے کبھی آپس میں کسی بات پر دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کربڑی لگاوٹ سے مسکرا دیتے یا کسی ...

مزید پڑھیے

پتھر اور کونپل

اس نے ہتھیلی کی پشت سے پلکوں پر جلتے ہوئے آنسووں کے قطرے پونچھ دیئے اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔نیلے آسمان پر دور تک پھیلے ہوئے بادلوں کے غبار پر نظر جم گئی۔ پھر دیکھا تو دور تک میدان ہی میدان پڑا تھا۔مٹیالا ، مٹیالا اور کہیں کہیں ہلکا سبزہ زمین پر بچھی ہوئی کاٹی کی طرح لگتا ...

مزید پڑھیے

دور دیس سے

جانے کتنی مدت سے تمہیں خط لکھنے کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ اتنے لمبے چوڑے خط کے جواب کیلئے کتنے ورق لکھنے پڑھیں گے تب تک ، تومنی بھی نیند سے چونک پڑے گی۔ اللہ جانے کیسے ڈراؤنے خواب ہوتے ہیں کہ منی گھبرا کے نیند میں مجھے ٹٹولنے لگتی ہے۔ میرے اوندھے سیدھے خواب ہی کیا کم ہیں کہ جن کا ...

مزید پڑھیے

شبنم اور انگارے

اس نے کروٹ بدل کے چادر منہ پر کھینچ لی۔ سورج کی کرنیں کھڑکی کے اندر آ کے پھیل گئی تھیں اور وہ ان کی گری محسوس کر رہی تھی لیکن بستر چھوڑ کے اٹھنے کو دل نہ چاہتا تھا۔ جسم پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا۔ جوڑ جوڑ میں درد ہو رہا تھا اور ایک انجانی کسک دل کو اداس بنا رہی تھی۔ کل تک زندگی ...

مزید پڑھیے

سیب کا درخت

درختوں ، بیلوں اور پھولوں میں گھر ی ہوئی ڈیوڑھی کسی بوڑھی کمزور عورت کی طرح جھک آئی تھی۔ چھت کی بڑی بڑی مضبوط نائیں دیمک چاٹ رہی تھی۔ بارش نے زرد رنگ ڈالا تھا اور باہر ڈیوڑھی کی دیواروں پر کائی اگ آئی تھی۔ نواب میاں کی یہ ڈیوڑھی اپنے اندر بڑی کشش رکھتی تھی اس ڈیوڑھی کو دیکھنے ...

مزید پڑھیے

ایر کنڈیشنڈ

سرمئی بادلوں نے ایک حسین شام کو تخلیق کیا تھا۔ حامد روڈ پر گہما گہمی ، ریل پیل ، حسن ، دلفریبی ، چمک دمک قہقہے اور سرگو شیاں بہہ رہی تھیں۔ مگر وہ ایر کنڈیشنڈ ’’ رانی ایمپوریم ‘‘ میں کاؤنٹر پر کھڑی بند دروازوں کے شیشوں سے باہر دیکھ رہی تھی۔سامنے ’’ میکس فیکٹر ،’ کے میک آپ کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 95 سے 233