افسانہ

درس محبت

معبد زہرہ کی کنواریاں سب کی سب پاکباز رہی ہوں یا عصمت فروش۔ اس سے بحث نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دردانہ زہرہ کی پرستش اس کو عصمت کی دیوی ہی سمجھ کر کرتی تھی اور جس وقت وہ معبد سے تجدید تقدس کے بعد باہر نکلتی تو لوگ ایسا محسوس کرتے کہ شاید دنیا میں تخلیق کی ابتدا ابھی نہ ہوئی ہے اور ...

مزید پڑھیے

طاؤس چمن کی مینا

روز کا معمول تھا۔ میں باہر سے آتا، دروازہ کھٹکھٹاتا، دوسری طرف سے جمعراتی کی اماں کے کھانسنے کھنکھارنے کی آواز قریب آنے لگتی، لیکن اس سے پہلے ہی دوڑتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدموں کی آہٹ دروازے پر آکر رکتی۔ ادھر سے میں آواز لگاتا، ’’دروازہ کھولو۔ کالے خاں آئے ...

مزید پڑھیے

جانوس

آندھی کے آثار تھے۔ دورشمال کی طرف آسمان زیادہ تاریک ہوگیا تھا اور فضا میں ہلکی سنسناہٹ تھی۔ ہوا کی رفتار تیزہوچکی تھی لیکن ابھی اس میں ناہمواری نہیں آئی تھی۔ اس رات بھی مجھ کونیند نہیں آرہی تھی مگر میں نے بستر پر لیٹ کر بجلی بجھادی۔ کمرے کا مشرقی دروازہ کھلا ہوا تھا ...

مزید پڑھیے

شیشہ گھاٹ

(۱) آٹھ برس تک بڑی محبت کے ساتھ مجھے اپنے یہاں رکھنے کےبعد آخر میرا منھ بولا باپ مجبورہواکہ میرے لئے کوئی اور ٹھکانا ڈھونڈھے۔ زیادتی اس کی نہیں تھی، میری بھی نہیں تھی۔ اسے یقین تھا، اور مجھے بھی کچھ دن اس کے ساتھ آرام سے رہنے کے بعد میرا ہکلانا ختم ہوجائےگا۔ لیکن اس کوامید ...

مزید پڑھیے

اہرام کا میر محاسب

بڑے اہرام کی دیواروں پر فرعون کا نام اور اس کی تعریفیں کندہ ہیں۔ اس سے یہ بدیہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اس عمارت کو فرعون نے بنوایا ہے۔ لیکن اس سے ایک بدیہی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ فرعون کا نام اور اس کی تعریفیں کندہ ہونے سے پہلےاہرام کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی۔ مگر کتنے پہلے؟ چند ماہ؟ ...

مزید پڑھیے

رے خاندان کے آثار

(۱) مجھے عظیم آباد میں پانچواں دن تھا۔ میں وہاں اپنے ایک افسر دوست کے بلاوے پر کچھ دن ان کے ساتھ رہنے کے لئے پہنچا تھا لیکن میرے اس دورے کا اصل مقصد یہ تھا کہ مجھ کو اپنے آبائی مکان سے الگ رہنے کی تھوڑی سی عادت ہو جائے اور افسر دوست کے بلاوے کا بھی اصل مقصد شاید یہی تھا۔ اپنے ...

مزید پڑھیے

اب کے برس

نور جہاں بیگم سے وقت کاٹے نہیں کٹ رہا تھا پل پل نظریں گھڑی پر لگی ہوئی تھیں اور کان دروازے پر۔ میاں کو گئے پانچ گھنٹے گزر چکے تھے۔ صبح دس بجے نکلے تھے اور اب تین بج رہے تھے۔ نور جہاں بیگم کے پیٹ میں ہولیں اٹھنے لگیں۔ ’’الٰہی خیر۔ میاں کو تمام حادثات سے محفوظ رکھیو۔ مشکل کشا کی ...

مزید پڑھیے

کمین گاہ

گھر پہنچ کر دن بھرکی مشقت اور ڈپریشن کا بوجھ اتارا ہی تھا کہ سامنے کامنظر دیکھ کر بوکھلا گیا۔ سانحات زندگی کا حصہ ہوتے ہیں مگر فی الوقت میں اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ میرے گھر کے نیم کشادہ ڈرائینگ روم کا ماحول اور ترتیب، جس کو میری بیوی نے اپنی صحت مندی کے دوران بڑے سلیقے سے ...

مزید پڑھیے

طولِ شبِ فراق

کسی شکست خوردہ جواری کی طرح گردن جھکائے آہستہّ ہستہ سیڑھیاں طے کرتا ہوا وہ اپنے کمرے کی جانب جا رہا تھا۔اُس وقت وہ معمول سے زیادہ پریشان اور غمگین نظر آرہا تھا۔اُس کے خشک اور منتشر بالوں نے اُس کا حلیہ مزید بگاڑ رکھا تھا۔ایسا جان پڑتا تھا جیسے وہ اپنی زندگی کا تمام اثاثہ لُٹا ...

مزید پڑھیے

صدیوں بھرا لمحہ

شہر کے مرکز میں یہ کیتھڈرل ہے۔ بہت اونچا اور شان دار۔ ایک خوب صورت عمارت ، جو دل موہ لیتی ہے۔ رات کے نو بجے ہیں اور ملگجے اندھیرے میں اس بڑے چوک کے عین بیچ میں مینار کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر میں سوچ رہی ہوں کہ کچھ نہ سوچوں، نہ یہ کہ آج اس شہر میں میرا آخری اتوار ہے، نہ یہ کہ ابھی کچھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 94 سے 233