افسانہ

الاؤ

گاؤں سے پورب ایک بڑا سا میدان ہے۔ کھیت کی سطح سے کچھ اونچا اور چورس۔ لوگ کہتے ہیں کہ اپنے زمانے میں کسی راجہ کا یہاں پر راج محل تھا، اسی کی مٹی اور اینٹ سے زمین اونچی ہو گئی ہے۔ میدان کے پوربی کنارے پر پیپل اور برگد کے پیڑ ہیں اور اس کے بعد کھیت، اتر طرف ناگ پھنی کی گھنی اور لمبی ...

مزید پڑھیے

چوکیدار

رات کو جب گاؤں‘‘ کے سب چھوٹے بڑے چین کی نیند سوتے تو رام لال چوکیدار کندھے پر اپنی پرانی لاٹھی لے کر جھوپڑے سے باہر نکل آتا، اور گاؤں کی اندھیری گلیوں میں پھرا کرتا، کہ کہیں کوئی چور تو نہیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر پر وہ چلا اٹھتا، ’’جاگ کے سونا۔‘‘ اس کی آواز بڑی ڈروانی تھی، کبھی ...

مزید پڑھیے

اندھیرے اور اجالے میں

اندھیرے میںرات کے بارہ بج چکے تھے، بنگلہ سے باہر باغ میں کبھی کبھی الو کے بولنے کے آواز گونج اٹھتی تھی، ورنہ ہر طرف بھیانک سناٹا چھایا ہوا تھا، اس خوبصورت اور لمبے چوڑے مکان میں صرف تین آدمی تھے، دو نوکر اور ایک مالک۔ باغ کا مالی، دور ایک کونے پر اپنی چھوٹی سی جھوپڑی میں پڑا سو ...

مزید پڑھیے

کھویا ہوا لال

ساون کی رات تھی، آسمان کالے کالے بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا، تین دن سے موسلا دھار پانی برس رہا تھا۔ ایسا اندھیرا تھا کہ پاس کی چیزیں بھی دکھائی نہ پڑتی تھیں، کبھی کبھی بجلی چمک جاتی تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ دنیا میں پانی اور بادلوں کے علاوہ دوسری چیز بھی ہے۔۔۔ اورنہ پانی برسنے یا بادل ...

مزید پڑھیے

تالے

وہ انیس بیس سال کی کچی کلی تھی اور میں عمر کی دہاییاں عبور کرتا چالیسویں کے آخری پیٹے میں جا پہنچا تھا مگر جوانی دل کی ہر رگ میں ڈیرہ جمان تھی۔ بچے جوان تھے اور بیوی بوڑھی۔ بالوں کے رنگ ، مہنگے کپڑوں کی کریز ،بے سلوٹ جوتوں کی چمک سے اور لمبی بڑی کالی کار کی امارت نے عمر کا حساب ...

مزید پڑھیے

انتہا

بل کھاتی ندیوں کے ٹھنڈے تازہ پانی کی بہتی لہروں میں سے چھینٹے اڑاتے مجھے جس کے سنگ گزرنا تھا،کوئی تھا ایسا جس کے ساتھ میں مجھے پھولوں کی طرح کھلنا اور کلیوں کی طرح چٹکنا تھا،ستاروں کی صورت چمکنا تھا۔بلند پہاڑوں کی خایک رنگ خاموشیوں میں،ہواؤں کے سنگ بہتے چشموں کی گنگنا ہٹ ...

مزید پڑھیے

وصال

پھولوں اور خوشبوؤں سے بھرپور ایک باغ تھا جس میں ہر طرف روپہلے،اودے،کاسنی،قرمزی،نارنگی جامنی اور گلابی پھول اوپر نیچے،دائیں بائیں بھرے ہوے تھے۔روش کے گرد کھڑی مہرابیں،کناروں پر رکھے سینکڑوں گملے اور پرندوں کے مجسمے،طنابیں اور چھپریاں سب کی سب پھولوں سے یوں شرابور تھیں کہ ...

مزید پڑھیے

ایک عام آدمی کی کہانی

میں تھکا ماندہ گھر میں داخل ہوا تو ٹھٹھک کر رہ گیا۔ بیوی فرش پر بیٹھی حسب عادت اپنے نصیب کو کوس رہی تھی۔ پہلے تو میں نے معاملے کا اندازہ لگانے کی کوشش کی۔ پھر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ اس نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مار کر بین کرتے ہوئے گویا خود کو کہا کہ اس گھر میں آکر کبھی کوئی سکھ ...

مزید پڑھیے

جرم

چھت ٹپک رہی ہے۔ چھت سے ٹپکتی پانی کی بوندیں ایسے گرتی ہیں کہ دیپا اندرہی اندر ایک پل کو سب کچھ بھول کر عجیب سی لذت میں ڈوب جاتی ہے۔۔۔ عجیب سی درد بھری لذت۔۔۔ جسے مباشرت کے وقت چت لیٹی عورت ہی محسوس کر سکتی ہے۔ کبھی اس موسم میں وہ کتنی رومانٹک ہوجاتی تھی۔۔۔ کل جب وہ عورت نہیں ...

مزید پڑھیے

شہ رگ

نہر کا پاٹ چوڑا تھا، اور پانی کا بہاؤ تیز تھا۔ کبھی مورنی سی پیلیں ڈالتا بھنور سا گھومتا، کبھی پنہاری سی گاگریں لڑھکاتا ،چھلیں اُڑاتا، نہر کے ان عنابی رنگ پانیوں میں عورتیں نہاتیں تو امو کو اپنی گابھن بکریوں کی طرح رس بھری معلوم ہوتیں۔ اُن بکریوں کی طرح جن کے تھن دودھ سے بھرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 24 سے 233