افسانہ

وزیر عدالت

ایک دن شام کے وقت جب کہ آسمان پر بادل لہرا رہے تھے۔ ایک اجنبی ششوپال، برہمن کے دروازے پر آیا اور لجاجت آمیز لہجے میں بولا ’’کیا مجھے رات کاٹنے کے لیے پناہ مل سکے گی؟‘‘ ششو پال اپنے گاؤں میں سب سے غریب تھے۔ تاہم اجنبی کو دروازے پر دیکھ کر ان کا چہرہ شگفتہ ہو گیا۔ انہوں نے کہا ...

مزید پڑھیے

دلہن کی ڈائری

۳ستمبر ۱۹۲۱ پرماتما کا لاکھ لاکھ شکر ہے، جو اس قدر عمدہ گھر ملا۔ گھر کاہے کو ہے۔ اچھا خاصہ محل ہے۔ کسی شے کی کمی نہیں، سبھی کچھ ہے ، سچ تو یہ ہے کہ میری قسمت کھل گئی ہے۔ مجھے سورگ مل گیا ہے۔ میں جو کچھ چاہتی تھی۔ بیاہ سے پہلے میں نے پرماتما سے ہاتھ باندھ کر جس جس چیز کے لئے دعا کی ...

مزید پڑھیے

ایک امریکن لیڈی کی سرگزشت

میں ان خوش قسمت عورتوں میں سے تھی جو اپنے آپ پر خود رشک کرتی ہیں۔ صحت، دولت اور حسن یہ تین چیزیں ہیں جن کو دنیا کے بیش بہا عطیے سمجھا جاتا ہے۔ مجھے یہ تینوں نعمتیں میسر تھیں اور اتنا ہی نہیں میری شہرت کے ڈنکے امریکہ کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک بج رہے تھے۔ میں امریکہ کی سب ...

مزید پڑھیے

شرابی

جب اس کی آنکھ کھلی تو سورج اونچا اٹھ چکا تھا اور اس کی تیز کرنیں اس کے چہرے پر پڑ رہی تھیں، اس نے اٹھتے ہی چاروں طرف نظر پھرا کر دیکھا، ہر طرف سناٹا تھا، اس نے سر میں ہلکا ہلکا درد محسوس کیا، ماتھے پر ہاتھ‘‘ پھیرتے ہی اس کا ہاتھ پسینے سے بھیگ گیا تھا، تھکن سے اس کا سارا بدن چور اور ...

مزید پڑھیے

دو مزدور

چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن کے پاس ہی چینی کا ایک بڑا سا کارخانہ تھا۔ اسٹیشن اور کارخانہ کے درمیان کچی سڑک پر پھوس کی ایک جھوپڑی کے دروازے پر ایک تختی لٹکی تھی جس پر لکھا تھا، ’’گرم چائے۔‘‘ جھوپڑی کے اندر مٹی کا ایک چبوترہ تھا، میز کرسی کے بدلے تاڑ کے پتّوں کی چٹائی تھی، چبوترے پر ...

مزید پڑھیے

پیٹ کی آگ

برسات کا موسم ختم ہو چکا تھا اور دھیرے سردی اپنا پرا جما رہی تھی، جب تیز ہوا چلتی تھی تو ٹھنڈ بجلی کی لہروں کی طرح بدن میں دوڑ جاتی تھی۔ بھیانک اور کالی رات آدھی سے زیادہ جا چکی تھی، سارے شہر پر سناٹا چھایا ہوا تھا، بازاری کتے ادھر ادھر مارے پھر رہے تھے، یا پولس کے سپاہی اپنی ...

مزید پڑھیے

بھوک

بھوک نے جب کروٹ لی تو آنتوں کے ساتھ ہی راؔمو کے دل و دماغ میں بھی ہلچل مچ گئی۔ وہ سوچنے لگا اب کیا کرنا چاہئے۔ بھوکے رہنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، ”فاقہ‘‘ کو چار شام تو ہو چکے، صبح ہوگی تو پانچواں ہوگا۔ تین دن سے کام ڈھونڈتا پھر رہا ہوں لیکن کام نہیں ملتا۔ اب صبح ہوتے ہی کام کہاں ...

مزید پڑھیے

جوانی

بیاہ ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا مگر سریندر نے پربھا سے ایک لفظ بھی نہ کہا تھا۔ وہ باہر سے آتا اور چپ چاپ پربھا کے پاس بیٹھ جاتا۔ کبھی کوئی کتاب اٹھا لیتا، کبھی کوئی رسالہ، اور وقت کاٹ دیتا۔ پھر باہر چلا جاتا، ماں باپ نے اس کا بیاہ کر دیا تھا، وہ ان کی خوشی، برادری میں عزت اور وقعت پر ...

مزید پڑھیے

دل کا روگ

چمپا نگر سینی ٹوریم۔ سسکتی ہوئی روحوں کی بستی۔ لرزتی ہوئی زندگیوں کی دنیا۔ مضطرب اور جھلملاتی ہوئی شمعوں کی انجمن۔ پرفضا مقام، شاداب درختوں کے جھنڈ میں لمبا چوڑا میدان، میدان میں سبز گھاس کا نظر فریب فرش۔ ان میں لال رنگ کی صاف سڑکیں۔ خوب صورت عمارتیں۔ لیکن ان پر گہری اداسی ...

مزید پڑھیے

چار آنے

باپ کچہری چلا گیا تو ریاض نے اطمینان کی سانس لی۔ جیب میں ہاتھ دے کر چونی ٹٹولی اور مطمئن ہوگیا، وہ ڈر رہا تھا کہ کہیں بھانڈا نہ پھوٹ جائے، کہیں اس کی ماں خرچ کے لئے پیسے نہ مانگ بیٹھے، باپ اپنی جیب میں ہاتھ دے اور چونی غائب پائے، مگر اسے یہ سوچ کر تھوڑی دیر کے لئے اطمینان ہوجاتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 23 سے 233