افسانہ

چھوٹا

پرانے مصروف اورپُرہجوم بازارکے اُس جانب طویل و عریض قطعۂ زمین، بازار کے رواں دواں پُرشور، قدیم اورجدید ٹریفک کی ہاؤہوکے باوجود ویران اوربے آباد پڑا دشت تنہائی کا تاثر دیتاتھاکہ اس کا کبھی کاکملاتا سبزہ برسوں سے خشک بلکہ گیاہِ خشک تر کا تاثر دینے لگا تھا۔ اورکسی زمانے میں ...

مزید پڑھیے

آئینہ

چارپائی پر لیٹا بوڑھا وجود ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا ہوا تھا ۔ زور زور سے کھانستے ہوئے جیسے اس کے انجر پنجر سب ہلنے لگے ۔منہ سے لعاب بہ رہی تھی۔ کہنیوں کی مدد سے وہ اٹھ گئیں ۔میلا کچیلا لحاف اپنے اوپر سے ہٹایا اور قمیض کے دامن سے رال صاف کرنے لگی۔ اتنی مشقت کے بعد ہاتھ تھر تھر کانپ رہے ...

مزید پڑھیے

نہلے پہ دہلا

بروک سٹریٹ میں اس وقت بھی گہما گہمی تھی۔حالانکہ وقت دن کے قاعدے سے نکلنا چاہتا تھا,سورج اپنے آخری مرحلے میں تھا۔ سڑک پر آہستہ سے چھڑی ہاتھ میں تھامے اس بوڑھے شخص نے مسکرا کر ارد گرد دیکھا اور پھر چلنے لگا۔وہ لنگڑا کے چل رہا تھا۔اسکی دونوں ٹانگیں متوازن نہیں تھیں۔ وہ خاکی رنگ کے ...

مزید پڑھیے

بس ایک نقطہ

پھولدار ساری پہنے ہوئے وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی کھیت کی طرف آتی دکھائی دی ،وجئی سر اٹھائے اسے دیکھتا رہا اور سوچتا رہا ۔ کا ہو مناّ کے ابّا ۔۔آج کھانا کھائے کھاتِر گھر کاہے نا ہی آئیو ؟۔۔ گنگا نے اپنے سر پر سوتی ،پرانی جگہ جگہ سے پیوند لگی ساری کا آنچل درست کیا ۔اور میلا سا ...

مزید پڑھیے

بے سائبان

آج پہلی بار یہ نہیں ہو ا ۔۔۔ اب کی تو جب سے سیتا گھر آئی ،اس کا یہی حال ہے ۔رات رات چیخ مار کر اٹھ جاتی ہے آنگن میں بھاگتی ہے کبھی چو کے میں جاکے چھپتی ہے اور کبھی زینہ کے نیچے دبکتی ہے ۔اس کی آواز میں ایسا درد ہوتا ہے کی سن لو تو رونا آئے ۔بڑی اّماں دو بار جا کر بھوسیلے سے اسے نکال ...

مزید پڑھیے

وضع دار

لکھنؤ کے ایک پرانے محّلے میں ہمارے کچھ عزیز رہتے تھے یا رہتے ہیں۔ کیونکہ بقول بشیر بدر انھیں میری کوئی خبر نہیں مجھے ان کا کوئی پتہ نہیں ۔یہ کا فی پہلے کی بات ہے۔ اس محّلے میں ایک بہت بڑا پھا ٹک ہوا کر تا تھا ۔جس کے اوپر دونوں طرف پتّھر کی بڑی بڑی مچھلیا ں بنی ہوئی تھیں ۔پھا ٹک ...

مزید پڑھیے

یہ رابطے دل کے

’’صاحبزادی لوٹ کر گھر آگئی ہیں ‘‘چچا نے ہاتھ دھوکر کھانے کے لئے تخت پر بیٹھتے ہوئی اطلاعا زور سے کہا ۔ روٹی کی ڈلیا کھولتے ہوئے چچی جان کا ہاتھ دم بھر کو کانپ گیا ۔ ’’حد ہوتی ہے بے غیرتی کی ۔ہنہہ ۔۔۔‘‘ چچا نے سالن کا ڈونگا اپنی طرف کھسکایا ۔اور پلیٹ سیدھی کی ۔ ’’آپ کو اسقدر ...

مزید پڑھیے

شانتی

جب سے اسِ باڈر پر ڈیو ٹی لگی تھی وہ بہت اداس تھا ۔اڑتی ہوئی گرم ریت ،جا بجا سخت ٹیلے ،اور گرم ہواؤں کی تپش ۔ اسےاپنا ٹھنڈا گھر ،گرم چولھا ، ہنستی مسکراتی بیوی اور کھلکھلاتے بچےٗ بہت یاد آتے تھے ۔وہ بس جیسے دن کاٹ رہا تھا ۔کبھی کبھی وہ منھ چھپا کر رویا بھی ،مگر ڈیوٹی تو ڈیوٹی ہے ...

مزید پڑھیے

ماتم گسار

شہر کے قلب میں واقع مدتوں سے ویران کھنڈر نما حویلی کے دروازے پر ایک تابوت رکھا ہوا ہے۔ سرگرمیاں جو دوپہر کی تمازت کے سبب معطل ہوچکی تھیں۔ پھر آہستہ آہستہ شروع ہو رہی ہیں۔ سڑکوں پر اکا دکا آدمی چلتا دکھائی دے جاتا ہے۔ جب کوئی راہ گیر حویلی کے سامنے سے گزرتا ہے اور دروازے پر ...

مزید پڑھیے

آنگن کی دھوپ

میگھارانی تمہارے دانت کتنے پیارے ہیں، گلہری کے دانت۔ تمہارے بال کب کٹے۔ کس نے کٹوائے، مجھے اچھے لگتے تھے تمہاری گردن پر دوڑتی گلہری کی طرح سنہرے بال۔ ہاں گلابی فیتہ بھی خوب بھپتا ہے، لگتا ہے بڑی سی تتلی تمہارے سر پر بسیرا کرنے کے لئے اتر آئی ہے۔ بھاگ کیوں رہی ہو؟ آؤ آؤ میں تم کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 212 سے 233