ارتقا
تاحدِ نگاہ آگ کے شعلے ہی شعلے تھے جو مکینوں کے جسموں کو جلائے جاتے ۔مقرر کردہ نگرانوں کے ہاتھوں فولادی زنجیر اسی آگ میں دہکائے جاتے اوران کے جسموں کو داغا جاتا تو لمحہ بھر کے لیے وہ اپنے ارد گرد کی دنیا سے بے سدھ ہو کر پڑے رہتے۔ پانی پانی پکارتے پکارتے نیم جاں ہو جاتے ۔ پینے کو ...