افسانہ

ایک ادھوری کہانی

’’ پھر یوں ہوا کہ اچانک شہزادہ غائب ہو گیا… ‘‘ شادمانی بیگم سانس لینے کو رکیں تو بچوں کے سوالوں کی بوچھار ہو نے لگی۔ ’’ نانی آپا ! ایسا کیسے ہو گیا۔ ۔ ؟ ‘‘ ریحان کا تجسس اس کی زبان پر آ گیا۔ ’’ دادی آپا ! شہزادہ کہاں چلا گیا؟ کیا پری اسے لے گئی؟ ‘‘ سمیہ کی حیرانی بڑھ گئی ...

مزید پڑھیے

عید گاہ سے واپسی

پریم چند کا ننھا حامد ستر سال کا بزرگ میاں حامد ہو گیا تھا۔ اسے اپنے بچپن کا ہر واقعہ یاد تھا۔ اُسے یہ بھی یا د تھا کہ وہ بچپن میں عید کی نماز کے لیے گیا تھا تو وا پسی میں تین پیسے کا چمٹا خرید کر لا یا تھا۔ اُس وقت اس کے دوستوں نے اس کا مذاق بنایا تھا۔ لیکن اس کے دو ستوں کے خریدے ...

مزید پڑھیے

بنتے مٹتے دائرے

وہ خصوصی طور پر آسمان سے نہیں اتری تھی۔ اسی گاؤں میں پیدا ہوئی۔ بڑی ہوئی اوراب گاؤں کی پہچان بنی ہوئی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ گاؤں کی پہلی لڑ کی تھی جس نے ظلم سہا اورآہستہ آ ہستہ خود کو ظلم کے خلاف کھڑا بھی کیا ۔ وہ عام سی لڑکی تھی۔ وہ، ما تا دین اورشربتی کی اکلو تی اولاد تھی۔ بچپن ...

مزید پڑھیے

نہ بجھنے وا لا سو رج

دوپہر کا وقت تھا۔ آسمان صاف تھا۔ با رش بند ہو گئی تھی۔ دھوپ مسکرا نے لگی تھی۔ ۔ ہر چیز دھل کر صاف ستھری اور نکھری نکھری ہو گئی تھی۔ بانو بیل، بھینس کو با ہر کھور پر باندھ کر ان کے چارے کا انتظام کرنے لگی۔ اتنے میں با ہر سے آواز آ ئی۔ ’’چٹھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ ’’ اری بانو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ...

مزید پڑھیے

دھوپ چھاؤں

وہ اپنا گھر چھوڑ کر اولڈ ایج ہوم میں آ گیا تھا اور اس کے دن آنسوؤں سے بھر گئے تھے۔ پچھلے پچاس برسوں کی زندگی بھولنا اتنا آسان تو نہ تھا۔ ہر لمحہ کچھ نہ کچھ باتیں اس کے دل و دماغ میں سوئیوں کی طرح تیرتی رہتیں اور اس کا پورا وجود چھلنی ہو کر رہ جاتا۔ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تو اسے ...

مزید پڑھیے

خلیج

رات خاصی تاریک تھی۔ اس تاریکی کو آسمان پر چھائے ہوئے بادلوں نے اور بھی گہرا کر دیا تھا۔ ٹرین کی رفتار کافی تیز تھی۔ کھڑکی سے آتی ہوئی ہوا نے اس کے ہوش و حواس بجا کر رکھے تھے ورنہ حبس جان لیوا ثابت ہوتا۔ وہ اس گرمی سے بھاگ کر ہی دارجلنگ کے لئے روانہ ہوا تھا۔ ایسا برسوں سے ہوتا آ رہا ...

مزید پڑھیے

فعل حال مطلق

میں اور غزالی۔۔۔۔ غزالی اور میں۔۔۔۔ ہم دو معلم اور ہم دونوں کے متعلمین! واہ! آہ! جس قدر تفاوت ہم دونوں میں تھا اس سے کہیں زیادہ ہمارے متعلمین میں۔ غزالی کے طالب علم۔۔۔ مطیع، لچیلے، متوافق کہ چاہو تو کوٹ کر ورق بنالو یا تار کھینچ لو۔اور چاہو تو پانی کے چار چھینٹے دو اور ان کی مٹی ...

مزید پڑھیے

ہوٹل سلازار

واشنگٹن سکوائر کے جنوب مشرقی کونے سے جو سڑک پھوٹتی ہے، اس پر چند فرلانگ کے فاصلے پر ہوٹل سلازارواقع ہے۔ یہ اس صدی کے اوائل کے طرز تعمیرکا نمونہ، ایک سادہ، بے رنگ عمارت ہے جس کی دیواریں مسلسل بارشوں سے کائی زدہ ہیں۔ اس کا اوپر والا حصہ کالے سیاہ رنگ کا ہے۔ سنا ہے کہ یہ بیس برس ...

مزید پڑھیے

سحرِ عدم

دھوئیں کا مرغولا اُس کے خیالات کی طرح دھیرے دھیرے فضاء میں گھومتا رہا اور پھر سرعت سے غائب ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ شائد غائب ہوگیا کا لفظ غلط ہے۔۔۔۔۔۔۔ نظر وں سے اوجھل ہوگیا مناسب لفظ ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہاں اوجھل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے یہ کمرہ اور اس کے باہری طرف جو کھڑکی کھلتی ہے اس سے پرے کہیں ستاروں ...

مزید پڑھیے

منش، دھرم اور یدھ

گوتم بودھ کہتا ہے ’’ میں سچ کو ڈھونڈتا تھا حیران ہوتا تھا، جب متلاشی تھا سچ نہ ملااور جب سچ ملا اور میں نے ادھر اُدھر دیکھا میں نہیں تھا ‘‘۔ گوتم بودھ اور وہ بھی شائد ایک ہی ناوکے سوار تھے، نہ معلوم منزلوں کے مسافر تو وہ بھی نہیں جانتا تھا کہ کون ہے اور کیوں ہے ، اگر وہ آسن جما ...

مزید پڑھیے
صفحہ 207 سے 233