افسانہ

سسکتی تہذیب

برس کا آخری دن تھا۔سورج دن بھر کا سفر طے کرکے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ دھوپ زرد اور ملائم ہو چکی تھی عمارتوں کے سائے دراز ہو چکے تھے اور ہواؤں میں ہلکی ہلکی خنکی آچکی تھی۔میں چائے پیتے ہوئے اخبار ہاتھوں میں تھامے تھوڑی دیر تنہا بیٹھ کر سوچنے لگا۔ پرسکوں ماحول میں دل کچھ ...

مزید پڑھیے

عکس در عکس

وہ ایک بڑا سرکاری پاگل خانہ تھاایک شام وہاں کہرام مچا ہوا تھا۔پاگل خانہ کے ملازم حسبِ دستور پاگلوں کو قابو میں لانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔جن میں ایک پاگل کو بے قابو ہونے پر بری طرح پیٹا جا رہا تھا۔اس کی تڑپ اورچیخوں سے پاگل خانہ کی دیواریں کانپ رہی تھیں۔وہ تاب نہ لاکر زمین پر ...

مزید پڑھیے

بھوک

اتوار کا دن تھا ۔ سہ ستارہ انٹر نیشنل ہوٹل میں ایک تقریب میں شرکت کر کے دوستوں سے گپ شپ کرنے کے بعد تقریباًڈھائی تین بجے گھر پہنچا۔ہمارے یہاں آدھا دن گذرنے کے بعد اردو اخبارات کا منہ دکھائی دیتاہے ۔آج کا تازہ اخبار باسی خبریں لئے میز پر منتظر تھا۔میں نے ایک نظر ڈالنے کی جسارت کی ...

مزید پڑھیے

اشکوں کی بارات

زینت کی زندگی پھر ایک بار جہنم بن گئی جب سے اس پر اکمل کا کالا سایہ پڑا تھا وہ اندرہی اندر پگھلنے لگی ۔ستم ظریفی کی بارش میں وہ شب و روز بھیگنے لگی۔کیونکہ غریبی کا ناگ پھن پھیلائے پھر سے کھڑا تھا۔اپنوں کی بے مروتی اور ان کی لعن و طعن اس کی راہ میں کانٹوں کی طرح بچھے ہوئے تھے گویا ...

مزید پڑھیے

ان دیوتا

’’تب اَن دیو، برہما کے پاس رہتا تھا۔ ایک دن برہما نے کہا۔ او بھلے دیوتا! دھرتی پر کیوں نہیں چلا جاتا؟‘‘ اِن الفاظ کے ساتھ چنتُو نے اپنی دل پسند کہانی شروع کی۔ گونڈوں کو ایسی بیسیوں کہانیاں یاد ہیں۔ وہ جنگل کے آدمی ہیں، اور ٹھیک جنگل کے درختوں کی طرح اُن کی جڑیں دھرتی میں گہری ...

مزید پڑھیے

نئے دیوتا

گاجر کے گرم حلوے کی خوشبو سے سارا کمرہ مہک اٹھا تھا اور اگر کسی دعوت کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ ہر کھانا نہایت سلیقے سے تیار کیا جائے اور معمولی معمولی چیزمیں بھی ایک نیا ہی ذائقہ پیدا کردیا جائے تو بلاشبہ دہلی کی وہ دعوت مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔ اتنی بھی کیا خوشی ہے، میں سوچ رہا ...

مزید پڑھیے

رفوگر

(۱) آسمان جیسے پھٹے پشمینے کا شامیانہ۔ نیل گگن پہ دودھیا میگھ، جیسے مدھوبن میں مست ہاتھی۔ ہندوستان کی قسم۔ کارواں سرائے سلامت یا الٰہی مٹ نہ جائے دردِ دل! ترہی والا سفید گھوڑے پر کالا شہسوار۔ ترہی بجی۔۔۔ پہلے دیوگیری بِلاوَل پھر مالکوس۔ دوکان کی اونچی سیڑھیاں چڑھ کے آئی ...

مزید پڑھیے

خوشبو کی کوئی منزل نہیں

سکھ وَنت کی زبان سے وہ بات ہزار بار سننے پر بھی ہمیشہ نئی معلوم ہوتی کہ تخلیق کے لمحے آوارہ تتلیوں کی طرح ہوتے ہیں، جو کبھی ایک پھول پر جا بیٹھتی ہیں، کبھی دوسرے پر یا یہ کہ گھوڑی اس وقت تک بوڑھی نہیں ہوتی جب تک گھوڑا بوڑھا نہیں ہوتا اور گھوڑا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ آتش دان کے ...

مزید پڑھیے

کتھا سرکس

ایک ہیلو لاہور، تیرے رنگ ہزار۔ میں کون؟ ماں کا دیو۔۔۔ دیوگندھار۔ جھک گیا آسمان۔ ہم قربان! کتھا سرکس عرف صدیوں پہ پھیلا فاصلہ۔ سنت نگر، وشنو گلی، گھوڑا اسپتال کہاں کا؟ لاہور کا، اور کہاں کا؟ سپنے میں دیکھا نیلا گنبد۔ دیوگندھار کا ایک نام امرت یان۔ سوکھے ہونٹوں پر پیاس۔ امرت ...

مزید پڑھیے

ہرے رنگ کی گڑیا

میں نے اُسے پہلے پہل ایک سرکاری دفتر میں دیکھا۔ وہ سبز رنگ کے لباس میں ملبوس تھی۔ میں اپنے پُرانے دوست مٹُّو سے ملنے کے لیے ٹھیک گیارہ بجے پہنچا۔ وہ وہاں پہلے سے موجود تھی۔ مٹو نے اُس سے میرا تعارف کرایا جب یہ پتہ چلا کہ وہ مصوّری میں دلچسپی رکھتی ہے اور اِس فن میں اُسے بڑی شہرت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 193 سے 233