افسانہ

مندر والی گلی

رائے صاحب کا گھر مندر والی گلی میں نہیں بلکہ گنگا کے کنارے تھا۔ وہ گھر گنگا کے کنارے نہ ہوتا تو مجھے کمرے کی کھڑکیوں سے گنگا کے درشن کیسے ہوتے۔ اب آپ پوچھیں گے یہ کب کی بات ہے۔ آرام سے بیٹھ کر سنیے۔ بہت خوشحالی کا زمانہ تھا۔ ایک پیسے میں تین سودے آجاتے تھے۔ آٹھ دن، نو میلے والی ...

مزید پڑھیے

پھر وہی کنج قفس

شِوپور جانے والے ساتھیوں کی طرف بیراگی بابا مڑ مڑ کر دیکھتا رہا۔ اُس نے سوچا آگے چل کر وشنو پور والے بھی بچھڑ جائیں گے، اور پھر کہیں رانگا ماٹی والے اس قافلے کو آخری سلام کریں گے۔ اپنی جنم بھومی کو کوئی کیسے بھول سکتا ہے؟ اور جب بچھڑنے والوں کے چہرے پونم کی چاندنی میں تحلیل ...

مزید پڑھیے

تانگے والا

شاہ محمد کے تکیے کا ایک حصّہ کاٹ کر اصطبل بنالیا گیا تھا۔ یہ سب کچھ جبراً ہوا۔ آخر رمضان کی چھاتی بھی تو چوڑی تھی اور اس دیوہیکل جوان کو دیکھ کر سب کے حوصلے جواب دے جاتے تھے۔ پھر جبر کا یہ قصّہ اور بھی طویل ہوگیا۔ کبوتروں کے دڑبے سے لے کر مزار تک لید بکھری رہتی تھی۔ لید بکھیرے ...

مزید پڑھیے

نیل یکشنی

ایک اس بارپھر ایک آنچ کی کسر رہ گئی۔ چلو یونان، چلو یونان! فادر ٹائم نے یایاور کو سر سے پان59و تک دیکھا ’’کہانی تو کہیں سے بھی شروع ہوسکتی ہے۔‘‘ آچاریہ مہاشویتم بولے۔ یایاور کے اغل بغل میں مون سون اور مِس فوک لور۔ کتھا دوار پر کُھدے ان کے پیدائشی نام۔ وِینس اور اینٹگنی۔ ڈاکٹر ...

مزید پڑھیے

برہمچاری

پنچ ترنی کی وہ رات مجھے کبھی نہ بھولے گی، نہ پہلے کسی پڑاؤ پر سورج کماری نے اِتنا سنگار کیا تھا، نہ پہلے وہ گیس کا لیمپ جلایا گیا تھا۔ اس روشنی میں سورج کماری کا عروسی لباس کتنا بھڑکیلا نظر آتا تھا۔ دونوں گھوڑے والوں کو خاص طور پر بُلایا گیا تھا۔ ایک کا نام تھا عزیزا اور دوسرے ...

مزید پڑھیے

لال دھرتی

کوئی رنگ مظلوم نگاہوں کی طرح خاموش اور فریادی ہوتا ہے۔ کوئی رنگ خوبصورتی کی طرح کچھ کہتا ہوا اور داد طلب دکھائی دیتا ہے۔ کوئی رنگ مچلتا ہوا ہمیں کسی ضدّی بچّے کی یاد دِلا جاتا ہے اور کسی کو دیکھ کر غنودگی سی چھا جاتی ہے۔۔۔ لاری کے ڈرائیور نے دریا پار کرتے ہوئے کہا، ’’اب ہم ...

مزید پڑھیے

بھینٹ

چاند کی نکھری ہوئی چاندنی میں صاف و شفاّف ندی کے کنارے اپنی تمام روایتوں اور عظمتوں کا حامل پیگوڈا کھڑا تھا۔ اُس کی مخروطی چھت کسی ہادئ برحق کی آسمان کی طرف اُٹھی ہوئی اُنگلی کی طرح یہ دکھاتی ہوئی معلوم ہوتی تھی کہ یہ ہے صداقت کی راہ اور یہی ہے گیان کی منزل۔ بُدھ مندر کے سائے ...

مزید پڑھیے

شبنما

بتّیاں جل چکی ہیں۔ چکلے میں رات ذرا پہلے ہی اتر آتی ہے۔ شبنما ایک چالیس بیالیس برس کی عورت اپنے گال رنگ کر، ہونٹ رنگ کر کُرسی پر آبیٹھی ہے۔ دھیرے دھیرے اُس کے ہونٹ ہلتے ہیں، کچھ نہ کچھ گنگنا رہی ہوگی۔ بیاہ میں کیا دھرا تھا؟ یہاں تو روز بیاہ ہوتا ہے نئے آدمی سے، گھڑی گھڑی۔ وہ ایک ...

مزید پڑھیے

ستلج پھر بپھرا

اِن جنونی لوگوں کی باتوں پر اُنھیں غصّہ آرہا تھا۔ کبھی کوئی بڑا بوڑھا یوں بول اُٹھتا، جیسے پھٹا ہوا ڈھول دھپ دھپائے، کبھی کوئی ایسی آواز اُبھرتی جیسے گیلا پٹاخہ پھٹ جائے۔ ستلج اُن کا منہ چڑا رہا تھا۔ لیکن بڑے بوڑھے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے کھڑے تھے۔ بچّوں کے لیے یہ ہلڑ مچانے کا ...

مزید پڑھیے

بٹائی کے دنوں میں

پچھم کی طرف سے آنے والی ہوا کے نیچے گیہوں کے پودے سر ہلارہے تھے۔ کنکُوت کے لیے ریاست کا سرپنچ کھیت کی مینڈ پر کھڑا تھا۔ دیوان صاحب کا آدمی مونچھوں کو تاو دے رہا تھا۔ فصل کا جائزہ لیتے ہوئے سر پنچ نے فیصلہ کیا کہ کوئی ساٹھ ایک من دانے ہوں گے۔ جو کام پہلے آدھ گھنٹہ مانگتا تھا۔ اب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 194 سے 233