افسانہ

جاگتی آنکھوں کے خواب

آرزوؤں کی اُڑان کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ وہ نہ مالی حالت دیکھتی ہے اور نہ سماجی رتبہ۔ شعبان ڈار کی دِلی آرزو تھی کہ اس کے دونوں بیٹے، خالد اور اشتیاق ڈاکٹر بن جائیں۔ در اصل ان دنوں اکثر والدین اپنے بچوں کو پڑھا لکھا کر ڈاکٹر یا انجینئر بنانا چاہتے تھے۔ ان پیشوں کے علاوہ کچھ سوجھتا ...

مزید پڑھیے

فرض شناس

میں اپنے دفتر میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ آج کوئی منحوس خبر ضرور ملنے والی ہے۔ کوئی کابوسی ڈر تھا جو مجھے پریشان کر رہا تھا۔ دن ہی کچھ ایسے تھے کہ ذہن ہر دم منفی خیالات میں گرفتار رہتا تھا۔ ہڑتالیں، جلسے جلوس، سرکاری کرفیو، سِول کرفیو، گولی باری، بم دھماکے، انکاونٹر، ناکہ بندی، ...

مزید پڑھیے

لہو کے گِرداب

کئی گھنٹوں سے وہ اپنے ہم سفر کا انتظار کر رہی تھی مگر وہ واپس آیا نہ کہیں دکھائی دیا۔ ہر لمحہ اس کے لیے امتحان بنتا جا رہا تھا۔ وہ سوچنے لگی۔ ’’ یہ ریل گاڑی جب منزل مقصود پر پہنچ جائے گی تو میں کہاں جاؤں گی؟وہاں میرا کوئی بھی نہیں ہے۔ اجنبی شہر۔۔ ۔۔ ۔۔ اجنبی راستے۔۔ ۔۔ ۔ اجنبی ...

مزید پڑھیے

طالبِ بہشت

وہ دن ہی کچھ منحوس سا تھا۔ معمول کی طرح سکول میں صبح کی مجلس کا انعقاد ہوا۔ بچے خوش و خرم، چہچہاتے ہوئے اور ہنسی مذاق کرتے ہوئے گراونڈ میں جمع ہوئے۔ ان کے سامنے اساتذہ تھے جو ان کو قطاروں میں کھڑے رہنے کی ہدایت دے رہے تھے۔ کچھ طلبہ ایسے بھی تھے جنھوں نے پہلی بار سکول میں داخلہ لیا ...

مزید پڑھیے

ایک بے کار آدمی کی کہانی

اس نے خود کو کبھی بے کار نہیں سمجھا۔ نہ اُس وقت، جب وہ گرلز کالج کے گیٹ کے باہر سفید خوبصورت کبوتریوں کی آمد و رفت سے اپنی آنکھوں کو طراوت پہنچاتا تھا اور نہ اب جب وہ گھر میں بیٹھا بیوی کے لوٹ آنے کا انتظار کرتا ہے۔ لڑکپن میں والدین نے خوب سمجھایا کہ تعلیم سے تقدیر بدل جاتی ہے مگر ...

مزید پڑھیے

یوم حساب

ایک زمانہ تھا کافی ہاؤس کشمیری سیاست کا بیرومیٹر ہوا کرتا تھا۔ دن ڈھلنے سے پہلے ہی سیاست دان، صحافی، دانشور، فن کار، گورنمنٹ ملازم اور طلبہ کافی ہاؤس میں جمع ہو جاتے اور حالات حاضرہ پر بحث و مباحث کرتے۔ ہر کوئی اپنی فراست کی نمائش میں غلطاں و پیچاں رہتا۔ خود نمائی کا ایک یہی تو ...

مزید پڑھیے

آگ کا دریا

میری پہلی پوسٹنگ تھی۔ تجربے کی کمی ہونے کے سبب فائیلوں پر فیصلے دینے میں ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی تھی۔ مگر مرتا کیا نہ کرتا۔ فائلیں تو نپٹانی تھیں۔ آخر تنخواہ کس بات کی لے رہا تھا۔ ماتحتوں پر بھروسہ کر کے کام چلانا پڑتا تھا۔ میرا مسئلہ یہ تھا کہ میں دیانت داری کا دامن نہیں چھوڑنا ...

مزید پڑھیے

نصیب اپنا اپنا

ہماری قسمت میں عیش و عشرت کہاں؟بس گھٹ گھٹ کر جینا لکھا ہے۔جب سے شادی ہوئی ہے ہماری قسمت پھوٹی ہے۔وہی کھانا پکانا،جھاڑو دینا ،برتن اورکپڑے دھونا۔ آدھی زندگی تو باورچی خانے میں گذر جاتی ہے۔اس پر ستم یہ کہ بچّے بھی پیدا کریں اور ان کی پرورش بھی کریں ۔اس کے علاوہ دوست و احباب اور ...

مزید پڑھیے

اجنبی

اجنبی کی رخصتی کے بعد اس نے باہر جھانک کر دیکھاشام رات کے گلے مل رہی تھی۔ اسٹریٹ لائیٹس بلا غرض اپنی روشنی بکھیر رہے تھے۔جن کے اطراف ٹڈّے اڑ رہے تھے ۔اس نے دروازہ بند کرلیا اورپھر آکروہ کرسی پر بیٹھ گیا۔اس کے ذہن میں اجنبی سے متعلق سوالات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔مگر کوئی ...

مزید پڑھیے

سناٹے بول اٹھے

تھوڑی ہی دیر میں افواہ جنگل کی آگ کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے فساد شروع ہو گیا۔میدان بدمعاشوں اور غنڈوں کے ہاتھوں میں آگیا۔گلی کوچے جہاں بھولے بھالے اور معصوم بچّے،جوان،بوڑھے مرد اور عورتیں بلا تفریق مذہب و ملّت آپس میں مل جل کر کھیلتے، پھرتے تھے ، جہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 192 سے 233