افسانہ

دوسرا آخری خط

میں نے چوتھا مکان بھی بدل لیاہے، شاید یہی بتانے کے لیے تمہیں دوسرا آخری خط لکھ رہا ہوں۔ یوں توپہلے خط کا جواب نہ پا کر مجھے ہر گز دوسرا خط نہیں لکھنا چاہیے تھا مگر کیا کروں اور کوئی چارہ بھی تونظر نہیں آتا۔ نئے مکان میں اور خوبیوں کے علاوہ ابھی کل ہی ایک ایسی خوبی دریافت ہوئی ہے ...

مزید پڑھیے

دوسرے قیدی پرندے

لالی کے ناتواں کندھے بڑے بڑے ٹو کرانما پنجروں میں پرندوں کا بوجھ اٹھائے اٹھائے شل اور ٹانگیں تھک کر چور ہوگئی تھیں۔ اب اس کے لیے مزید چلتے رہنا دشوار ہورہا تھا۔ اوپر سے پریشانی یہ کھائے جارہی تھی کہ سورج سر پر آگیا اوراب تک بونی بھی نہ ہوپائی تھی۔ اگربونی بھی نہ ہوپائی تو دوپہر ...

مزید پڑھیے

ماتم شہرِ آرزو

صمد خاں کی آنکھوں کے سامنے بجلی سی لہرائی۔ انہوں نے کھڑکی میں سے دیکھا۔ وہ پھر سامنے سے گزر رہی تھی ویسی ہی مست خرام، اپنے آس پاس سے بے نیاز، جیسے پوری دنیا کو روندتی ہوئی۔ زندگی کی پچپن بہاریں دیکھ چکنے والے صمد خاں کی ساری حسّیں بیدار ہو گئیں۔ ایک ٹھنڈی اور بوجھل آہ بھرتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

بھالو

آج جمعرات تھی۔ ابھی چراغ بھی نہ جلے تھے۔ اللہ رکھی گلابی چھینٹ کا لہنگا اور مہین ململ کا کرتہ پہنے اور سر پر ہرا دوپٹہ حجنوں کی طرح لپیٹے، آج بھی سلیپریں گھسیٹتی درگاہ میں حاضری دینے نکلی لیکن ایسی بے تابی سے کہ انوری اس کی تیزی کا ساتھ نہ دے سکی۔ مٹکی برابر پیٹ، اس پر دل کی پیاس ...

مزید پڑھیے

ہائے اللہ

بیچاری دادی! نہ کسی کے لینے میں نہ کسی کے دینے میں۔ بس اپنے کوٹھری نما کمرے میں تخت پر بیٹھی موٹے موٹے دانوں والی سیاہ تسبیح کھٹکھٹایا کرتیں۔ تسبیح کھٹکھٹانا تو اب جیسے ان کی عادت ہوگئی تھی۔ کسی سے بات کر رہی ہوں، کسی کو نصیحت فرمارہی ہوں، شادی بیاہ پر اظہار خیال ہو یا بیماری ...

مزید پڑھیے

ایک بچی

اس دن شام ہی سے پھوار پڑ رہی تھی اور مجھے بس خواہ مخواہ ہی تو الجھن ہو رہی تھی۔ ادھر چند سال سے اکثر میری یہی کیفیت رہتی۔ گھٹی گھٹی، دبی دبی بیزاری اور الجھن سی۔۔۔ اس پر شام ہی سے وہ ہلکی ہلکی پھوار۔۔۔ مجھے جانے کیو ں ہلکی ہلکی، دبی دبی کیفیتوں سے نفرت سی ہونے لگتی ہے۔ کہتے ہیں کہ ...

مزید پڑھیے

چاند کی دوسری طرف

تاج محل ہوٹل کے سامنے سے پہلے بھی کبھی کبھار گزرا ہوں۔ لکڑی کے بھدے سے کیبن اور سیمنٹ کے ٹھڑے والی چائے کی دکان پر ’’تاج محل ہوٹل‘‘ کا بورڈ دیکھ کر مسکرایا بھی ہوں۔ لیکن پچھلے دو مہنےل سے یہ ہوٹل میری زندگی کے نئے راستے کا ایک اہم موڑ بن گیا ہے۔ جہاں میں اپنی پرانی سائیکل کو ہر ...

مزید پڑھیے

تیسری منزل

حلیمہ بائی بلڈنگ کی چوتھی منزل کے خوبصورت فلیٹ میں بیٹھے بیٹھے حلیمہ بائی کو ایک دم غصہ آگیا۔ انہوں نے وفد کے لیڈر دلی والے کی فصیح و بلیغ شکایات سننے کے بعد سر ہلا کر کہا، ’’پن ہم کسی کے بولنے کا کس طرح ایک دم مان لیں گا۔۔۔ فیر دیکھو، بابا کوئی آکر تمہارے گھر کو کچھ بولیں گا تو ...

مزید پڑھیے

صندوقچہ

وقت کچھوے کی چال چلتا معلوم ہورہا تھا۔ بڑی مشکل سے ملکہ بیگم نے تھپک تھپک کر بچوں کو سلایاتھا لیکن ان کی ساس کی عشاء کی نمازطول کھینچتی جارہی تھی اور محمود میاں تو جیسے آج سارے سال کی پڑھائی ختم کرنے پر ادھار کھائے بیٹھے تھے حد یہ کہ مسعود میاں ابھی تک اپنی بیکاری کے غم میں مع ...

مزید پڑھیے

بندر کا گھاؤ

وہ برآمدے میں جھلنگی کھاٹ پر نئی دلہن کی طرح گٹھری بنی پڑی تھی۔ گرمی کی بھری دوپہر، اس پر ٹھیرا ہوا بخار۔۔۔ جی بولایا جارہا تھا۔ کمرے میں گھر کے سب افراد دروازے بند کیے آرام سے ہنس بول رہے تھے۔ کئی بار اس کا جی چاہا کہ وہ بھی سورج کی تپش سے پناہ لینے کے لیے کمرے میں جا پڑے۔ لیکن اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 178 سے 233