افسانہ

بے حد معمولی

پروفیسر دارا مرزا نے پوری طاقت سے برک دبایا اور چلا کر کہا۔ ’’پگلی کہیں کی‘‘۔ برک لگنے سے پروفیسر منظور کو جو دارا کے پاس بیٹھے ہوئے تھے سخت دھکا لگا اور ان کا سراسکرین سے ٹکر اگیا۔ ساتھ ساتھ ان کے منہ سے نکلا۔ ’’کیا مر گئی کم بخت؟‘‘ ایک طرف سے دارا اور دوسری طرف سے پروفیسر ...

مزید پڑھیے

ماں بیٹا

مومنہ آندھی اور پانی میں رات بھر بھاگتی رہی۔ بھیگتی رہی ٹھٹھرتی رہی اور بھاگتی رہی۔ اندھیرا اس غضب کا تھا کہ دو قدم آگے کا درخت تک نہیں سوجھائی دیتا تھا۔ کھیت اور مینڈھ ٹیلا اور کھائی۔ پورب اور پچھم۔ زمین اور آسمان سب ایک غیر محدود سیاہ وسعت میں گم ہو گئے تھے۔ ہر قدم پراسے ...

مزید پڑھیے

اندھیرا اجالا

اب جو سیٹھ جی نے اپنے ریشمی کرتے کے بائیں جانب سینے پر ہاتھ پھیرا تو سدھو کو یقین ہو گیا کہ میرا اندازہ غلط نہیں تھا۔ کرتے کے نیچے بنڈی کی جیب میں ہے کوئی بھاری رقم۔ تبھی تو سیٹھ جی بس اسٹینڈ کی لائن میں کھڑے کھڑے اس کو دو بار ٹٹول چکے ہیں۔ اس بار ٹٹولنے میں ریشمی کرتے پر دو شکنیں ...

مزید پڑھیے

آخری کوشش

ٹکٹ بابو نے گیٹ پر گھسیٹے کو روک کر کہا، ’’ٹکٹ!‘‘ گھسیٹے نے گھگھیا کر بابو کی طرف دیکھا۔ انھوں نے ماں کی گالی دے کر اسے پھاٹک کے باہر ڈھکیل دیا۔ ایسے بھک منگوں کے ساتھ جب وہ بلا ٹکٹ سفر کریں اور کیا ہی کیا جاسکتا ہے؟ گھسیٹے نے اسٹیشن سے باہر نکل کر اطمینان کی سانس لی کہ خدا ...

مزید پڑھیے

واپسی

پندرہ سال کی طویل مدت کے بعد جیل کے آہنی پھاٹک کی کھڑکی سے ایک بوڑھے نے نکل کر باہر کی فضا کو اس طرح اجنبی نگاہوں سے دیکھا جیسے کسی دیہاتی کو لال قلعہ کے دیوانِ عام میں چھوڑ دیا گیاہو۔ بوڑھے کی ضعیف آنکھوں کے گرد سیاہی نمودار تھی۔ چہرے پر سیاہ اور سفید بالوں کی داڑھی بُھٹے میں ...

مزید پڑھیے

ابن آدم

ہرروز کی طرح کمرے کی دیوار پر لگے ہوئے بلب کے نیچے د وموٹی موٹی چھپکلیاں بار بار منہ کھول کر بے بس کیڑوں کی نگل رہی تھیں اور وہ دونوں بھی ہر روز کی طرح اپنے تھکے ہارے جسموں کو لے کر بے جان کرسیوں پر آن پڑے تھے ۔ پھر ایک نے دوسرے سے سوال کیا : ’’ تم نے آج کیا دیکھا ؟ دوشرا کہنے ...

مزید پڑھیے

اپنی آگ اپنا گھر

جوان بیٹے کا جنازہ صحن میں رکھا ہوا تھا پورے گھر میں ہاہاکار مچی ہوئی تھی۔ ہر چہرے پر افسوس و ملال تھا۔ عورتیں رو رو کر اپنا سر پیٹ رہی تھیں۔ ہر آنکھ نم تھی لیکن زبیدہ بالکل خاموش تھی، جس کا جوان بیٹا موت کی وادی میں کفن اوڑھے سو رہا تھا۔ اُس کی آنکھ سے ایک بھی آنسو نہیں نکلا تھا، ...

مزید پڑھیے

گرم سُوٹ

تکیہ پر نئے غلاف کی طرح وہ اپنے بدن پر نیا سوٹ چڑھا کر کمرے سے باہر آیا خوشی سے اس کی بانچھے کھلی جارہی تھیں ۔ آج عرصۂ دراز کی آرزوئے دِلی عملی جامہ زیب تن کر کے اس کے رو برو آئی تھی ۔ اپنی بے انتہا مسرتوں کو اُچھالتے ہوئے اس نے رسوئی میں بیٹھی ہوئی شانتا کو آواز دی ۔ ’’ اے شانتا ...

مزید پڑھیے

خانہ بدوش

گذشتہ ستر سال سے بلال کی اذان کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی اور اس آواز کے ساتھ وہ صلاۃ اور فلاح کی طرف دوڑ پڑتا تھا۔ پہلی اذان کی آواز اس نے اس وقت سنی تھی جب ماں کے بدن سے الگ ہو کر باپ کی گود میں آنکھیں کھولی تھیں ۔ خدا کی وحدانیت، رسول کی شہادت اور فلاح کی جانب بڑھنے کا یہ ...

مزید پڑھیے

ایک ہی راستہ

وہ اندر ہی اندرآتش فشاں کی طرح پک رہا تھا اور اُس کے اندرایک اضطرابی کیفیت موجزن تھی ۔ اُس نے اپنے ذہنی اور قلبی سکون کے لیے تمام طریقے اختیار کر لیے تھے لیکن ہر بار ناکام رہا ۔ وہ بالکل مایوس ہو چکا تھا اسے یقین ہوگیا تھا کہ اس عالمِ آب وگل میں چہار جانب اس قدر انتشار پھیلا ہوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 173 سے 233