افسانہ

میری ناتمام محبت

ایک صبح میں بالا خانے سے نیچے جارہی تھی کہ کمرہ ملاقات میں مجھے گفتگو کی آواز سنائی دی۔ جھانک کر دیکھا تو زبیدہ دادی ایک مخملی صوفے پر بیٹھی ہوئی اپنی ایک بوڑھی سہیلی سے کہہ رہی تھیں، ’’کل ہمارے خط کے جواب میں روحی کے والد کے پاس سے خط آگیا! وہ عنقریب یہاں آنے والے ہیں اور ...

مزید پڑھیے

اس کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا

ایک گرم رات میں اپنا ایک افسانہ ختم کرکے کتب خانے سے باہر نکلی تھی۔ کہ اچانک باغ کے زینے پر کسی کی قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ ’’اے معبود! یہ کون تھا۔ زوناش؟‘‘ میں نے خوف سے لرز کر اپنی بوڑھی حبشن کو آواز دی، مگر وہ بہری چوہیا اللہ جانے کدھر تھی کہ اس نے جواب نہ دیا۔ آپ جانتے ہیں کہ ...

مزید پڑھیے

اندھی محبت

(جب محبت کے اندھے دیوتا ’’کیوپڈ‘‘ کی آنکھیں پیدا ہوتی ہیں تو کیا ہوتا ہے؟)(۱)حادثہ’’پاچ تون‘‘ سے شہر شوراک جاتے ہوئے ہمیں کار کا ایک ایسا خوفناک حادثہ پیش آیا جس نے میری کتاب زندگی میں ایک عجیب و غریب باب کا اضافہ کردیا۔موٹر کار کی پچھلی سیٹیں سامان سے لدی ہوئی تھیں۔ چچا ...

مزید پڑھیے

مہمان داری

مجھے ایک مدت سے سمرد کے کھنڈر دیکھنے کا اشتیاق تھا۔ اتفاق سے ایک دن باتوں باتوں میں میں نے اپنے شوق کا ذکر بوڑھے ڈاکٹر گار سے کیا۔ وہ سنتے ہی بولے، ’’اتنا اشتیاق ہے تو بیٹی وہاں کی سیر کو جاتی کیوں نہیں؟ تمہارے قیام کا انتظام میں کیے دیتا ہوں۔ مادام حمرہ دلی خوشی سے تمہیں اپنا ...

مزید پڑھیے

احتیاط عشق

میں اوپر کی منزل میں عرشۂ چمن پر بیٹھی ایک کتاب پڑھ رہی تھی۔ نیچے پائیں باغ موتیا کے پھولوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ اتنے میں باہر کے صدر دروازے پر کسی نے اطلاعی گھنٹی بجائی۔ ’’کیا واہیات ہے۔‘‘ میں نے اپنے دل سے کہا، ’’کتاب کا یہ ورق کتنا دلچسپ تھا۔ تحریر میں روانی کے ساتھ ...

مزید پڑھیے

محبت یا ہلاکت؟

(حیاتِ انسانی کا ایک عبرت انگیز واقعہ)(باب ۱)عشق کیا کیا ہمیں دکھاتا ہےآؤ تم بھی تو اِک نظر دیکھولوگو! میرا دوستانہ مشورہ یہی ہے کہ خدا را دنیا میں سب کچھ کرو۔ آسمانوں پر پہنچ جاؤ، زمین کے نیچے چلے جاؤ، ہوا میں معلق ہو، مریخ و زہرہ کے باشندوں سے یگا نگت پیدا کرو، سب کچھ کرو ...

مزید پڑھیے

کونٹ الیاس کی موت

علالت کا تار اف میرے چچا کی خوف ناک موت! ان کی موت بجائے خود ایک آسیبی حادثہ تھی۔ جب کبھی میں ان پراسرار شیطانی واقعات کا خیال کرتی ہوں جو ان کی موت کے سلسلے میں یا یوں کہیے ان کی موت کے بعد کوہ فیروز میں گزرے تھے، تو آج بھی خوف سے لرز جاتی ہوں۔ رونگٹے جیسے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ...

مزید پڑھیے

شکرگزار آنکھیں

(۱) اکتوبر 47 سے پہلے میرے سینے میں ٹپکتے ہوئے سات سات چھالے تھے۔ اور ساتوں نے مل کر دل کو پھوڑا بنا دیا تھا۔ ماں باپ کے قتل کا چھالا۔ جوان بیٹے کے قتل کا چھالا۔ دودھ پیتی بیٹی کے قتل کا چھالا۔ اور جیون سنگھی گھر کی لکشمی کے قتل کا چھالا۔ اللہ اکبر کے نعروں۔ پاک داڑھیوں اور نمازی ...

مزید پڑھیے

ڈھائی سیر آٹا

پروائی چل رہی تھی اس لیے مولا کو بائی نے پکڑ رکھا تھا اور وہ آٹھ دس روز سے کام پر نہیں جا سکا تھا۔ دو تین روز تک جو دو چار پیسے جمع تھے، وہ خرچ ہوئے اور پھر ادھار پرکام چلتارہا۔ دو چار روز کے بعد بنیا بھی حیلے حوالے کرنے لگا۔ مجبوراً ایک دن مولا ٹانگ میں ذرا آرام پاکر صبح تڑکے ...

مزید پڑھیے

بھیک

کیلاش کی لاری پتھورا گڑھ کے خشک بنجر اور تپتے ہوئے پہاڑوں کو ایک درے سے پار کر کے موتی نگر کی وادی میں داخل ہوئی۔ اور داخل ہوتے ہی منظر اور موسم اور مسافروں کا مزاسب کچھ بدل گیا۔ سامنے ایک طرف نندا دیوی اور ترسول کی برف پوش چوٹیاں چمک رہی تھیں اور دوسری طرف ڈھلواں پہاڑوں پر سیب، ...

مزید پڑھیے
صفحہ 172 سے 233