افسانہ

میر معلوم ہے،ملازم تھا

اس وقت تک پاکستان میں اسمارٹ فون ،تھری جی جیسی ٹیکنالوجی اور واٹس اپ، فیس ٹائم،سنیپ چیٹ،ٹوئیٹر،ٹنڈر، اسنیپ چیٹ جیسی سوشل میڈیا کی ایسی غارت گر ایمان اور اودھم مچانے والی ایپس عام نہیں ہوئی تھیں۔ نہ ہی ہر اللے تللے کی کیمرے والے موبائیل فون تک یوں رسائی تھی ، جیسی آج ہے۔اسمارٹ ...

مزید پڑھیے

گھر واپسی

آگے کسو کے کیا کریں دست طمع دراز وہ ہاتھ سو گیا ہے، سرھانے،دھرے دھرے میر تقی میرؔ ماہ دسمبر کی اس ٹھٹڑتی سیاہ رات،اسلام آباد میں مینا المعروف بہ نوشابہ حسین کی شادی تھی۔ اس رات ایک عجب بات ہوئی کہ دلہن کے لئے،دولہاکے لئے اور حجلہء عروسی کے لئے،کسی کے لئے بھی پھول نہیں ...

مزید پڑھیے

محاسن

۱ اپنی پیدائش کی منتظر بیٹی کا نام محاسن رکھنے کا فیصلہ اس کے ابّو نے قاہرہ کے ائیرپورٹ پر کیا۔خاتون امیگریشن کلرک جس نے ان کا جلدی میں گم کردہ پاسپورٹ پبلک ایڈریس سسٹم سے کام لے کر تندہی سے تلاش کرکے دیا ، اس نیک دل ، انسان دوست بی بی کا نام محاسن تھا ۔ یہ نام ایک چھوٹی سے نیم ...

مزید پڑھیے

رشتہ

’’اگر کوئی پوچھے کہ میرا تم سے کیا رشتہ ہے تو کہنا کہ وہی جو پھول کا خوشبو سے،بادل کا بارش سے ،گیت کا سنگیت سے اور چاند کا رات سے ہے۔وہی۔۔۔وہی ۔۔۔جو ہوا کا سانسوں سے اور دل کا دھڑکن سے ہے۔اگر ہم کسی سماجی اور مذہبی بندھن میں نہیں بندھے تو کیا ہوا،ہماری آتمائیں تو ایک ہیں ...

مزید پڑھیے

اوس کے موتی

ماسٹر صاحب نے کال بیل دبائی۔دروازہ کھلا اور وہ اپنی مخصوص جگہ پر جا کر بیٹھ گئے۔سجا سجایا ڈرائنگ روم،پرسکون ماحول اور روح میں تازگی پیدا کرنے والی خنکی۔باہر کی گرم ہوا جیسے کہیں گم ہو گئی تھی ۔انہوں نے جیب سے رومال نکالا اور پیشانی پر آئے پسینے کے قطروں کوخشک کیا۔ماسٹر صاحب کی ...

مزید پڑھیے

بند وبست

چشم زدن میں اس نے اپنا بوسیدہ جمپر اتارا اور اپنی دونوں ٹانگوں کو پھیلا کر جمپر کو ران کے بیچوں بیچ رکھ کر یوں رگڑا جیسے کچھ پونچھ رہی ہو۔ پھر اس نے جمپر کو الگنی پر ٹانگ دیا اورپیڑ کی طرح سیدھی کھڑی ہوگئی ۔ وہ مادر زادبرہنہ تھی۔ آنگن میں بلب روشن تھا جس کی روشنی میں اس کا آنبوسی ...

مزید پڑھیے

پورٹریٹ

زمین سے لے کر آسمانوں تک کے دْھواں دْھواں منظر کو دیکھ جب وہ مضطرب ہو جاتی ، اور رات ایک انجانے خوف سے سہمے ہوئے گزر جاتی ۔ تب ہوتا یہ تھا کہ اْس کی بوجھل آنکھوں میں صْبح کی سپیدی اتْر آتی تھی اور شام اْداس اْداس سی سیاہ رنگت لئے رات کی سیاہی سے جا ملتی تھی ۔ ہر روز کْچھ ایسا ہی ...

مزید پڑھیے

کاٹنے والے ‘جوڑنے والے

یہ قصہ سن انیس سو چھیالیس کا ہے۔ جمن میاں کی بیچ بازار میں ایک چلتی پھرتی ٹیلرنگ شاپ تھی۔ان کی دکان پر کئی کاریگر کام کرتے تھے۔خودجمن میاں گردن میں فیتہ لٹکائے رہتے۔شوکت میاں کاکام کپڑوں کو کاٹنا تھا۔رحمت میاں آنکھوں پر موٹا چشمہ لگائے سوئی دھاگے سے دستکاری میں مشغول ...

مزید پڑھیے

گرفت

نالی میں کچرا جمع ہو گیا تھا۔ اس جگہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ہر شخص اپنے گھر کا کچرا گھر کے سامنے ہی پھینک دیتا ہے یا نالی میں بہا دیتا ہے۔گھر کے باہر خواہ کتنی ہی گندگی کیوں نہ ہو گھر صاف رہنا چاہیے۔کہنے کو تو یہ مہذب لوگوں کا علاقہ ہے پھر بھی مسئلہ یہ تھا کہ نالی میں کچرا جمع ہو گیا تھا ...

مزید پڑھیے

مرد

’’اگر شوہر بستر پر دوسری جانب کروٹ بدل کر سونے لگے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ بیوی اب اپنی کشش اور جاذبیت کھوتی جا رہی ہے ۔ یا کسی دوسری عورت کا سایہ اس پر پڑ گیا ہے۔اور نہیں تو اب وہ عورت کے قابل نہیں رہا ۔‘‘ راحیلہ کی بات سن کر شگفتہ سناٹے میں آ گئی۔شاکر اچھا خاصا مرد تھا۔ ایک سال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 161 سے 233